ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Kisan Tractor Rally: آئی ٹی او پر ایک شخص کی موت، لال قلعہ سے مظاہرین کو پولیس نے ہٹایا، انڈیا گیٹ علاقہ سیل

یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کی ٹریکٹر ریلی تشدد میں تبدیلی ہوگئی۔ اس دوران کسان لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ آئی ٹی او پر پولیس کی فائرنگ کے دوران اتراکھنڈ کے نونیت نام کے نوجوان کی موت ہوگئی ہے۔ ابھی تک پولیس کا اس معاملے پر کوئی بیان نہیں آیا ہے۔

  • Share this:
Kisan Tractor Rally: آئی ٹی او پر ایک شخص کی موت، لال قلعہ سے مظاہرین کو پولیس نے ہٹایا، انڈیا گیٹ علاقہ سیل
آئی ٹی او پر ایک شخص کی موت، کسانوں کا دعویٰ- پولیس فائرنگ میں مارا گیا نوجوان

نئی دہلی: یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کی ٹریکٹر ریلی تشدد میں تبدیلی ہوگئی۔ اس دوران کسان لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ آئی ٹی او پر پولیس کی فائرنگ کے دوران اتراکھنڈ کے نونیت نام کے نوجوان کی موت ہوگئی ہے۔ ابھی تک پولیس کا اس معاملے پر کوئی بیان نہیں آیا ہے۔ وہیں دوسری جانب دہلی کے شمالی ضلع میں  انٹرنیٹ خدمات کو بند رکھنے کے لئے لوگوں کو ایس ایم ایس ملے ہیں۔ حالانکہ آفیشیل تصدیق ابھی تک پولیس نے اب تک نہیں کی ہے۔


وہیں دوسری طرف سنگھو - غازی پور- ٹکری بارڈر سمیت کئی علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات پر روک لگا دی گئی ہے اور انڈیا گیٹ کا علاقہ سیل کردیا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ غازی پور بارڈر پر صبح میں دو پولیس افسران، ایڈیشنل ڈی سی پی ایسٹ منجیت اور پروبیشنری آئی پی ایس افسر کو چوٹیں آئیں۔ کیونکہ انہوں نے کسانوں کو بیریکیٹ توڑنے سے روکنے کی کوشش کی۔ دہلی ٹریفک پولیس نے وزیر آباد روڈ، آئی ایس بی ٹی روڈ، جی ٹی روڈ، پشتہ روڈ، وکاس مارگ، این ایچ -24، روڈ نمبر -57 اور نوئیڈا لنک روڈ پر زبردست ٹریفک ہے، لہٰذا ان سڑکوں پر جانے سے بچیں۔


اس دوران مشتعل مظاہرین کو روکنے کے لئے پولیس نے آںسو گیس کے گولے استعمال کئے اور لاٹھی چارج کیا۔ جب مقررہ راستہ سے ہٹ کر کسانوں کی پریڈ آئی ٹی او سمیت کئی دیگر مقامات پر پہنچ گئی۔ کسان راج پتھ کی طرف جانا چاہتے تھے۔ دہلی پولیس نے کسانوں کو راج پتھ پر یوم جمہوریہ کے سرکاری پریڈ ختم ہونے کے بعد مقررہ راستوں پر ٹریکٹر پریڈ کی اجازت دی تھی۔


مظاہرین میں سے ایک نے لال قلعہ کے ایک گنبد کے اوپر جھنڈے لگا دیئے۔ اس دوران کسان لیڈر راکیش ٹکیٹ نے کہا کہ ہم ان لوگوں کو جانتے ہیں جو بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی پہچان کی گئی ہے۔ یہ سیاسی جماعتوں کے لوگ ہیں، جو آندولن کو مشتعل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 26, 2021 03:35 PM IST