جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلباء اورانتظامیہ کے بیچ تنازعہ: کیمپس پولیس چھاؤنی میں تبدیل

احتجاجی طلباء نےالزام لگایا کہ جامعہ انتظامیہ نے انہیں کرایے کے غنڈوں سے پٹوایا جب کہ سکیورٹی عملہ خاموش تماشائی بنارہا ۔

Oct 22, 2019 09:50 PM IST | Updated on: Oct 22, 2019 09:50 PM IST
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلباء اورانتظامیہ کے بیچ تنازعہ: کیمپس پولیس چھاؤنی میں تبدیل

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلباء اورانتظامیہ کے بیچ تنازعہ: کیمپس پولیس چھاؤنی میں تبدیل۔(تصویر:نیوز18اردو)۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلباء اورانتظامیہ کے بیچ تنازعے میں کیمپس پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ دراصل پانچ طلباء کے خلاف وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا تھا جس کو لے کر طلباء مسلسل احتجاج کر رہے تھے تاہم آج احتجاجی طلباء نےالزام لگایا کہ جامعہ انتظامیہ نے انہیں کرایے کے غنڈوں سے پٹوایا جب کہ سکیورٹی عملہ خاموش تماشائی بنارہا ۔اس بیچ کچھ طلباء کوگہرے زخم آئے ہیں۔ وہیں جامعہ کے پی آر او احمد عظیم نے طلباء کے الزام کو خارج کر دیاہے۔واضح رہے کہ تازہ اطلاعات کے مطابق طلباء کا احتجاج جاری ہے

اسرائیلی سفارتخانہ کے تعاون سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے منعقد کانفرنس برائے میڈیکل انفراسٹرکچرکے انعقاد کی مخالفت کرتے ہوئے طلبا احتجاج کررہے ہیں۔جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے پانچ طلبا کو نوٹس جاری وجہ بتاؤنوٹس جاری کیاگیاتھا اور طلبا کو پانچ دنوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی تاہم طلبا نے جواب نہیں دیا اور احتجاج میں شدت پیدا کردی ہے۔آج طلبا وائس چانسلرکےدفترکے روبرو احتجاجی مظاہرہ کررہے تھے۔ طلبا نے الزام لگایاہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبا کوغنڈوں سے پٹوایا۔ جس کے بعد کیمپس پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہوچکا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے تعاون سے یہ کانفرنس کے انعقاد پرطلبا ناراض ہے۔اسرائیل نے لاکھوں فلسطینیوں کے حقوق کو سلب کرلیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے کی جانے والی ظلم و زیادتیوں سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے حکام واقف ہیں اس کے باوجود انہوں نے اسرائیلی سفارتخانہ کی مدد حاصل کرتے ہوئے کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا ہے۔

Loading...

Loading...