ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کی دھند اور کہرے میں گم ہوتے اہم معاملات و موضوعات

مظاہروں اور احتجاجوں کی اس تمام ہنگامہ آرائی میں غریبی ، بے روزگاری ، مہنگائی اور بڑھتے جرائم جیسے اہم اور حساس مسائل وموضوعات کہیں گُم ہوکر رہ گئے ہیں ۔

  • Share this:
سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کی دھند اور کہرے میں گم ہوتے اہم معاملات و موضوعات
سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کی دھند اور کہرے میں گم ہوتے اہم معاملات و موضوعات

علم وادب کے اہم مرکز اور اتر پردیش کی راجدھانی لکھنئو میں آئین و دستور کے تحفظ اور ملک کی یکجہتی و سالمیت کے نام پر سی اے اے کے خلاف احتجاج ومظاہروں کا خاموش سلسلہ جاری ہے۔ حالانکہ دفعہ 144 نافذ ہونے کے سبب نہ اب احتجاج کی لو ہی شدید ہے اور نہ عوامی مظاہروں سے حکومت کے خلاف اٹھنے والی فلگ شگاف آوازیں اور نعرے  ہی سنائی دے رہے ہیں ۔ تاہم ایک سلسلہ ہے جو مختلف حوالوں اور طریقوں سے جاری ہے۔ لکھنئو کے تعلق سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پارکوں ، میدانوں اور سڑکوں پر ہونے والے احتجاج اب چائے خانوں اور نشست گاہوں کی گفتگو اور بحث و مباحثوں تک سمٹ گئے ہیں ۔ اس بکھرنے اور سمٹنے کے پیچھے جو اسباب ہیں ، وہ بھی جگ ظاہر ہیں۔


مظاہرین کے مطابق پولیس نے جس بربریت اور ظلم کا مظاہرہ کیا ، اس سے لوگ خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے ان کی حوصلہ شکنی ہوئی اوروہ کھلے میدانوں سے بند کمروں تک سمٹ گئے۔ کچھ لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ اتر پردیش میں برسر اقتدار حکومت نے مظاہرین و احتجاجیوں کو روکنے کا جو طریقہ استعمال کیا ، وہ غیر آئینی اور غیر دستوری ہونے کے ساتھ ساتھ کئی مقامات پر غیر انسانی بھی تھا اور پھر اس کے تدارک کے لئے وہ سیاسی جماعتیں ، بالخصوص سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی بھی حکومت کے جبر کا تدارک نہ کرسکیں۔ لہٰذا عوامی غم و غصے کی نوعیت اور شدت تبدیل ہوگئی۔


سیاسی بصیرت اور سماجی شعور رکھنے والا ایک حساس طبقہ یہ بھی مانتا ہے کہ سی اے اے کی وجہ سےعام آدمی کی زندگی کے وہ مسائل اور موضوعات کہیں بہت پیچھے رہ گئے ، جن کی بنیاد پر برسر اقتدار حکومت کا محاصرہ کیا جاسکتا تھا۔ غریبی ، بے روزگاری ، مہنگائی اور تحفظ جیسے بنیادی موضوعات سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کی نذر ہوگئے۔ تمام سیاسی جماعتیں بیان بازی تو کررہی ہیں ، لیکن کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھانے کی وجہ سے حزب اختلاف کمزور نظر آّتاہے۔ ان مسائل کے درمیان عوام غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں۔ حالات بہتری کے لئے کب تبدیل ہوں گے ، کسی کو نہیں معلوم ۔ مسائل کا حل کسی کے پاس نہیں۔


بی جے پی کہتی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے ، عوام  کی اکثریت اور اپوزیشن دونوں کی رائے یہ ہے کہ ملک بدترین دور سے گزررہاہے ۔ الزام تراشیوں کا سلسلہ بے دستور عہد میں بھی بدستور جاری ہے ۔ دوسری طرف بر سر اقتدار جماعت کے لوگوں کی ضد اوردعویداری بھی پہلے کی طرح ہی برقرار ہے ۔ سڑکوں پر اتر کر ملک کے آئین ودستور کی لڑائی لڑ رہے لوگ کن مسائل سے دوچار ہیں ، یہ سب جانتے ہیں ، سمجھ رہے ہیں اور سمجھ کر بہت خوبصورتی سے نظر انداز بھی کررہے ہیں ۔ اتر پردیش میں کانگریس کے سئنئر لیڈر پرمود تیواری کہتے ہیں کہ آئین و قانون کے اعتبار سے ریاست کا منظر نامہ مایوس کن ہی نہیں بلکہ افسوسناک ہے ۔ سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے مطابق موجودہ حکومت کو سنویدھان کی کوئی فکر نہیں ہے ۔ یوگی جی دوہرے معیار اپنارہے ہیں اورسماج کے کمزور لوگوں پر کھلا ظلم ہورہاہے ۔ ان کے ساتھ تعصب برتا جارہاہے ۔ بہوجن سماج پارٹی کی قومی سربراہ مایاوتی بھی بی جے پی کی عوام مخالف پالیسیوں پر طنز اور تنقید تو کرتی ہیں ، لیکن سڑکوں پر اتر کر عوام کی آواز میں آواز ملانے کا حوصلہ شاید کسی میں نہیں ۔

معروف سماجی کارکن بلال نورانی کہتے ہیں حوصلہ تو ہے ، لیکن مذکورہ لیڈران مصلحتوں کے اسیر ہیں اور شرپسند عناصر کی اس سازش کا شکار ہوگئے ہیں ، جس کے تحت سی اے اے کے خلاف اٹھی عوامی تحریک کو بھی ایک مخصوص طبقے اور مذہب سے جوڑ کر دیکھا جانے لگا ہے ۔  آل انڈیا جمعیۃ القراء کے صدر مولانا قاری یوسف کے مطابق سی اے اے اور این آرسی کے سبب  بی جے پی لوگوں کو بنیادی مسائل سے ہٹانے میں کامیاب ہوگئی ہے ۔ مختلف محاذوں پر ناکام حکومت کی بیشتر ناکامیاں ان مظاہروں اور احتجاجوں کی دھند میں چھپتی جارہی ہیں اور جب تک یہ گرد چھٹے گی ، شاید دیر ہوچکی ہوگی ۔

اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور دلتوں پر ہونے والے مظالم کا اعتراف تو بھی سب جماعتوں اور تنظیموں کے لوگ کرتے ہیں ، لیکن حل کسی کے پاس نہیں ہے ۔ حزب اختلاف اس مرتبہ جتنا کمزور نظر آتا ہے ، پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کھلے طور پر بی جے پی کو مسلم اور غریب مخالف قرار دیتی ہیں ، لیکن مایاوتی کہیں نہ کہیں اپنی گفتگو میں محتاط نظر آتی ہیں اور احتیاط سے لوگ مطمئن نہیں ہیں ۔ یہ سب بیان بازیاں اپنی جگہ ، لیکن بی جے پی ہائی کمان سے لے کر نیچے تک سب کارکنوں اور وزیروں کی زبان اور ہٹھ دھرمی کم وبیش ایک سی ہے ۔ مختار عباس نقوی اور محسن رضا کے مطابق سیاسی جماعتیں لوگوں کو گمراہ اور بدگمان کررہی ہیں ، ملک بہتری کے راستے پر ہے ، سب کا وکاس ہو رہا ہے اور سب کا وشواس مل رہاہے ۔ بی جے پی لیڈر اور وزیر اپنی بیان بازیوں پر قائم ہیں ۔ کوئی کچھ کہے وہ ہر مخالف عمل کو  حزب اختلاف کی سازش ہی قراردیتے ہیں ۔

ایک حساس طبقہ یہ بھی مانتا ہے کہ لوگوں کے احتجاج ومظاہرے صحیح ہیں ، لیکن اتر پردیش میں  سیاسی پارٹیاں خاص طور پر سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی اپنی ذمہ داریاں بخوبی نہیں ادا کرپائی ہیں ۔ نہ توسیاسی جماعتوں نے سڑکوں پر اتر کر لوگوں کا ہی ساتھ دیا اور نہ مختلف محاذوں پر حکومت کو مسائل حل کرنے کے لئے مجبور کیا ہے ۔ مظاہروں اور احتجاجوں کی اس تمام ہنگامہ آرائی میں غریبی ، بے روزگاری ، مہنگائی  اور بڑھتے جرائم جیسے اہم اور حساس مسائل وموضوعات کہیں گُم ہوکر رہ گئے ہیں ۔
First published: Jan 20, 2020 11:07 PM IST