ہوم » نیوز » وطن نامہ

پڈوچیری میں 22 فروری کو ہوگا کانگریس حکومت کا فلور ٹیسٹ ، ایل جی نے جاری کیا حکم

Puducherry government crisis: قائد حزب اختلاف این رنگا سامی کے ساتھ انا ڈی ایم کے قانون ساز پارٹی کے لیڈر اے ایم انبھجگن اور وی سامی ناتھن نے لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کی ۔ اس کے بعد ایل جی نے 22 فروری کو وزیر اعلی نارائن سامی کو ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دی ۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 18, 2021 09:19 PM IST
  • Share this:
پڈوچیری میں 22 فروری کو ہوگا کانگریس حکومت کا فلور ٹیسٹ ، ایل جی نے جاری کیا حکم
پڈوچیری میں 22 فروری کو ہوگا کانگریس حکومت کا فلور ٹیسٹ ، ایل جی نے جاری کیا حکم

پڈوچیری کی لیفٹننٹ گورنر تملیسائی سندرراجن نے جمعرات کے روز وزیر اعلی وی نارائن سامی کو آئندہ 22 فروری کو ایوان اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ گورنر ہاؤس کی طرف سے جاری ہونے والی ایک ریلیز کے مطابق اپوزیشن کے 14 اراکین نے 17 فروری کو دعوی کیا کہ نارائن سامی کی حکومت اقلیت میں آ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت اکثریت ثابت کرے اور اس مطالبہ پر انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کے سکریٹری کو ایک میمورنڈم پیش کیا تھا ۔


قائد حزب اختلاف این رنگا سامی کے ساتھ انا ڈی ایم کے قانون ساز پارٹی کے لیڈر اے ایم انبھجگن اور وی سامی ناتھن (بی جے پی کے نامزد ممبر) نے آج لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کی اور اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیا ۔ اس کے بعد ایل جی نے 22 فروری کو وزیر اعلی نارائن سامی کو ایوان اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دی ۔


لیفٹننٹ گورنر سندرراجن نے کہا کہ اسمبلی کے کل 28 ارکان میں سے حکمران جماعت اور حزب اختلاف دونوں کے پاس 14 اراکین ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 22 فروری کو قانون ساز اسمبلی کا اجلاس صرف ایک ایجنڈے تک محدود رہے گا کہ آیا موجودہ وزیر اعلی کو ایوان کا اعتماد حاصل ہے یا نہیں ۔ قانون ساز اسمبلی میں ووٹنگ ہاتھ اٹھا کر کی جائے گی اور ووٹنگ کے پورے عمل کی ویڈیو گرافی کی جائے گی ۔ اکثریت ثابت کرنے کی کارروائی شام پانچ بجے تک ختم ہوگی۔


لیفٹیننٹ گورنر نے اسمبلی کے سکریٹری سمیت عہدیداروں کو یہ یقینی بنانے کی ہدایت دی کہ پورا عمل پرامن طریقے سے مکمل ہو۔ انہوں نے چیف سکریٹری اور پولس کے ڈائریکٹر جنرل کو یہ یقینی بنانے کی ہدایت دی کہ اجلاس میں کسی بھی ایم ایل اے کو روکاوٹ نہ پیش آئے۔

واضح ر ہے کہ مرکز کے زیر انتظام خطہ پڈوچیری کی 33 رکنی اسمبلی (نامزد تین ممبران سمیت) میں تعمیرات عامہ کے وزیر اے نمشیوایم اور ایم ایل اے تھیپنتھن کے استعفی دے کر بی جے پی میں شامل ہوجانے اور وزیر برائے صحت ملادی کرشن راؤ اور کانگریس کے صدر جان کمار کے استعفیٰ دینے، نیز ایک دیگر رکن دھنایلو کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد صرف 28 ایم ایل اے رہ گئے ہیں ۔ اس وقت حکمران جماعت اور اپوزیشن دونوں کے پاس 14–14 ارکان ہیں۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 18, 2021 09:16 PM IST