ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پنجاب : کیپٹن امریندر سنگھ کی حمایت میں آئے 10 ممبران اسمبلی ، کہا : معافی مانگیں سدھو

Punjab Congress: ممبران اسمبلی نے نوجوت سنگھ سدھو کو لے کر پارٹی کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سدھو ایک سلیبریٹی تھے اور بلاشبہ پارٹی کیلئے ایک ایسیٹ تھے ، لیکن عوامی طور پر اپنی ہی پارٹی اور سرکار کی تنقید کی ۔

  • Share this:
پنجاب : کیپٹن امریندر سنگھ کی حمایت میں آئے 10 ممبران اسمبلی ، کہا : معافی مانگیں سدھو
پنجاب : کیپٹن امریندر سنگھ کی حمایت میں آئے 10 ممبران اسمبلی ، کہا : معافی مانگیں سدھو ۔ فائل فوٹو ۔

چنڈی گڑھ : پنجاب کی سیاسی تصویر ان دنوں مسلسل بدل رہی ہے ۔ ایک طرف نوجوت سنگھ سدھو پنجاب کانگریس کے صدر بننے کیلئے مسلسل تال ٹھوک رہے ہیں تو دوسری طرف کیپٹن امریندر سنگھ نے بھی انہیں روکنے کیلئے پوری طاقت جھونک دی ہے ۔ پنجاب کانگریس کی کمان دئے جانے کی خبروں کے درمیان سدھو مسلسل پارٹی کے بڑے لیڈروں سے ملاقات کررہے ہیں ، لیکن اس درمیان پارٹی کے ایک سینئر لیڈر سکھ پال سنگھ کھیرا نے سدھو کی طرف گگلی پھینک دی ہے ۔ کھیرا نے اپنے حق میں 10 ممبران اسمبلی کی حمایت کا دعوی کیا ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے سدھو کو معافی مانگنے کیلئے کہا ہے ۔


بتادیں کہ کھیرا نے حال ہی میں عام آدمی پارٹی کو چھوڑ کر کانگریس کا ہاتھ تھاما ہے ۔ مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ریاستی پی سی سی سربراہ کی تقرری پارٹی اعلی قیادت کا خاص اختیار ہے ، لیکن ساتھ ہی ساتھ گندگی کو دھونا بھی ہے ۔ گزشتہ دو مہینے کے دوران پارٹی کی شبیہ خراب ہوئی ہے ۔


کیپٹن کی حمایت


ممبران اسمبلی نے کہا کہ کیپٹن کی وجہ سے ہی 1984 میں دربار صاحب پر حملے اور اس کے بعد دہلی اور ملک میں دیگر مقامات پر سکھوں کے قتل عام کے بعد پنجاب میں پارٹی نے اقتدار حاصل کیا ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کیپٹن امریندر سنگھ کو وزیر اعلی کے طور پر اپنی پہلی مدت کار میں اپنے خلاف بدعنوانی اور آمدنی سے زیادہ اثاثہ کا معاملہ درج کرنے کیلئے بادل کنبہ کے ہاتھوں بدلے کی سیاست کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا ۔

پارٹی کو ہوگا نقصان

ممبران اسمبلی نے کہا کہ چونکہ انتخابات میں صرف چھ مہینے بچے ہیں ، اس لئے پارٹی کو الگ الگ سمت میں کھینچنے سے 2022 کے انتخابات میں نقصان ہوگا ۔ انہوں نے کیپٹن امریندر سنگھ کے مطالبہ کی بھی حمایت کی کہ نوجوت سنگھ سدھو ، جنہوں نے ان کے اور سرکار کے خلاف کئی ٹویٹ کئے تھے ، انہیں عوامی طور پر معافی مانگنی چاہئے تاکہ پارٹی اور سرکار مل کر کام کرسکے ۔

سدھو نے پارٹی کو کیا کمزور

ممبران اسمبلی نے نوجوت سنگھ سدھو کو لے کر پارٹی کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سدھو ایک سلیبریٹی تھے اور بلاشبہ پارٹی کیلئے ایک ایسیٹ تھے ، لیکن عوامی طور پر اپنی ہی پارٹی اور سرکار کی تنقید کی اور تنقید کرکے انہوں نے پارٹی کو کمزور کردیا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 18, 2021 04:27 PM IST