ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

پلوامہ جیسے حملے کی سازش ناکام، جموں کے مشہور رگھوناتھ مندر میں دھماکے کا تھا منصوبہ

جموں میں بھیڑ بھاڑ والے ایک بس اسٹینڈ کے نزدیک سے ایک نرسنگ طالب علم کے پاس سے اتوار کو طاقتور آئی ای ڈی (IED) برآمد کی گئی۔ دھماکہ خیز اشیا کی برآمدگی ہونے سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا اور پلوامہ حملے کی دوسری برسی پر دھماکہ کرنے کی دہشت گردوں کی سازش ناکام ہوگئی۔

  • Share this:
پلوامہ جیسے حملے کی سازش ناکام، جموں کے مشہور رگھوناتھ مندر میں دھماکے کا تھا منصوبہ
پلوامہ جیسے حملے کی سازش ناکام، جموں کے مشہور رگھوناتھ مندر میں دھماکے کا تھا منصوبہ

جموں: جموں میں بھیڑ بھاڑ والے ایک بس اسٹینڈ کے نزدیک سے ایک نرسنگ طالب علم کے پاس سے اتوار کو طاقتور آئی ای ڈی (IED) برآمد کی گئی۔ دھماکہ خیز اشیا کی برآمدگی ہونے سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا اور پلوامہ حملے کی دوسری برسی پر دھماکہ کرنے کی دہشت گردوں کی سازش ناکام ہوگئی۔ پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ طالب علم اور تین دیگر کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ افسران کے مطابق، نشانے پر جموں کا مشہور رگھوناتھ مندر بھی تھا۔


جموں رینج کے پولیس انسپکٹر جنرل (آئی جی) مکیش سنگھ نے بتایا کہ ایک الگ مہم میں سانبا ضلع سے پستولیں اور  چھوٹے آئی ای ڈی ضبط کئے گئے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا، ’گزشتہ چار دنوں میں ہم ہائی الرٹ پر تھے کیونکہ خفیہ اطلاع تھی کہ دہشت گردانہ گروہ پلوامہ حملے کی دوسری برسی پر جموں شہر میں ایک بڑے دھماکہ کے فراق میں ہیں۔ سبھی اہم مقامات کی سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی اور جانچ تیز کر دی گئی تھی۔


تقریباً سات کلو گرام آئی ای ڈی برآمد کیا گیا


مکیش سنگھ پولیس جنرل ڈائریکٹر (ڈی جی پی) دلباغ سنگھ بھی تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک نوجوان کو بس اسٹینڈ علاقے میں ایک بیگ کے ساتھ مشکوک فارمیٹ سے گھومتے ہوئے پایا گیا۔ اس کے پاس سے تقریباً سات کلو گرام آئی ای ڈی برآمد کیا گیا۔ حالانکہ ابھی دھماکہ خیز مادہ کو ایکٹیو نہیں کیا گیا تھا۔

پاکستانی آقاوں کے اشارے پر کر رہا تھا کام

آئی جی نے ملزم کی پہچان پلوامہ کے لیڈر کے گاوں کے باشندہ سہیل بشیر شاہ کے طور پر بتائی ہے، جو چنڈی گڑھ کے ایک کالج سے نرسنگ کا کورس کر رہا ہے۔ پاکستان میں بیٹھے دہشت گرد تنظیم البدر سے تعلق رکھنے والے آقاوں نے اسے جموں میں آئی ای ڈی رکھنے کا کام سونپا تھا۔ انہوں نے بتایا، ’اسے چار ہدف دیئے گئے تھے، جن میں (مشہور) رگھوناتھ مندر، بس اسٹینڈ، ریلوے اسٹیشن اور بازار شامل تھے اور اسے اپنا کام پورا کرنے کے بعد ایک اڑان سے سری نگر جانا تھا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 14, 2021 11:30 PM IST