ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

پلوامہ حملہ: این آئی اے آج داخل کرسکتی ہے 5000 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ، ہوسکتے ہیں یہ اہم انکشاف

جموں وکشمیر واقع پلوامہ میں جیش محمد (Jash E Mohammad) کے دہشت گردوں نے جموں وکشمیر (Jammu Kashmir) کے پلوامہ میں سی آر پی ایف (CRPF) کے قافلے پر حملہ کیا تھا۔

  • Share this:
پلوامہ حملہ: این آئی اے آج داخل کرسکتی ہے 5000 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ، ہوسکتے ہیں یہ اہم انکشاف
پلوامہ حملہ: این آئی اے آج داخل کرسکتی ہے 5000 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ

نئی دہلی/ سری نگر: جموں وکشمیر (Jammu Kashmir) واقع پلوامہ میں مرکزی نیم فوجی دستہ (Pulwama Attack) کے جوانوں کے قافلے پر ہوئے حملے میں قومی تفتیشی ایجنسی (NIA) منگل کو 5000 صفحات کی چارج شیٹ فائل کرسکتی ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق اس چارج شیٹ میں پاکستان واقع جیش محمد اور اس کے سرغنہ مسعود اظہر، روف اصغر کا نام بطور ملزم شامل کیا گیا ہے۔ این آئی اے (NIA) نے اپنی جانچ میں پایا ہے کہ حملے میں استعمال کئے گئے20 کلو آرڈی ایکس کو پاکستان سے لایا گیا تھا۔




اطلاعات کے مطابق، این آئی اے کی چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ آرڈی ایکس سمیت دیگر دھماکہ خیز اشیا دہشت گرد پیٹھ پر پاکستان سے لاد کر لائے۔ اس کے ساتھ ہی بتایا گیا کہ ایک دیگر ملزم اقبال رادر اس حملے کے پہلے عمر فاروق نام کے ایک دہشت گرد کو رات کے اندھیرے میں سرحد پار کراکر وادی میں لایا تھا۔ این آئی اے کو اس بات کے ویڈیو ثبوت بھی ملے ہیں، جن میں اماوس یعنی اندھیری رات میں دراندازی کرنے کی حکمت عملی کا ذکرکیا گیا ہے۔ جانچ ایجنسی کو یہ ویڈیو عمر فاروق کے فون میں ملا ہے۔ اس فون کے ذریعہ ایجنسی کو پورے پلان کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ جس کے ذریعہ دہشت گرد ہندوستانی سرحد میں آئے۔

ذرائع کے مطابق چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں نے حملے میں استعمال کئے گئے امونیم نائٹریٹ اور نائیٹرو گلسرین جیسی اشیا مقامی سطح پر ہی جمع کئے تھے۔ کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں نے جموں وکشمیر میں ان دھماکہ خیز اشیا کو آن لائن بھی خریدا تھا۔

این آئی اے (NIA) نے اپنی جانچ میں پایا ہے کہ حملے میں استعمال کئے گئے 20 کلو آرڈی ایکس کو پاکستان سے لایا گیا تھا۔
این آئی اے (NIA) نے اپنی جانچ میں پایا ہے کہ حملے میں استعمال کئے گئے 20 کلو آرڈی ایکس کو پاکستان سے لایا گیا تھا۔


40 جوان ہوگئے تھے شہید

سال 2019 میں ہوئے پلوامہ حملے سے متعلق یہ چارج شیٹ جموں واقع این آئی اے کی خصوصی عدالت میں داخل کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس حملے کو انجام دینے والا عادل احمد ڈار سمیت اس میں استعمال ہوئی آئی ای ڈی کو بنانے والا کامران، سرحد پار سے آیا دہشت گرد عمر فاروق انکاونٹر میں مارےا جاچکا ہے۔ اس معاملے میں ابھی تک 7 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ این آئی اے کی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہشت گردانہ حملہ کرنے والے ڈار سمیت دیگر دہشت گردوں کے پاس سے مہنگے فون ملے ہیں، جس میں دہشت گردانہ حملے سے پہلے کے کئی منصوبے اور تصویریں برآمد ہوئی ہیں۔ جانچ میں سامنے آیا ہے کہ لیتھ پورا میں فرنیچر کی دوکان کرنے والے شخص نے دہشت گرد ڈار کو نیم فوجی دستے کے قافلے کی پوری اطلاع دی، جس کے بعد اس حملے کو انجام دیا گیا۔ واضح رہے کہ اس دہشت گردانہ حملے میں سی آر پی ایف کے 40 جوان شہید ہوگئے تھے اور کئی زخمی ہوگئے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 25, 2020 11:45 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading