உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیپٹن کے بعد چننی پر بھاری پڑے سدھو ، ایڈوکیٹ جنرل کی چھٹی ، ڈی جی پی پر گرے گی گاج!

    کیپٹن کے بعد چننی پر بھاری پڑے سدھو ، ایڈوکیٹ جنرل کی چھٹی ، ڈی جی پی پر گرے گی گاج!

    کیپٹن کے بعد چننی پر بھاری پڑے سدھو ، ایڈوکیٹ جنرل کی چھٹی ، ڈی جی پی پر گرے گی گاج!

    Channi Vs Siddhu : پنجاب سرکار نے آخرکار ریاست کے ایڈووکیٹ جنرل اے پی ایس دیول کا استعفی قبول کرلیا ہے ۔ اس کی تصدیق خود ریاست کے وزیر اعلی چرنجیت سنگھ چننی نے منگل کو کی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اب ڈی جی پی بھی بدلے جاسکتے ہیں ۔

    • Share this:
      چنڈی گڑھ : پنجاب سرکار نے آخرکار ریاست کے ایڈووکیٹ جنرل اے پی ایس دیول کا استعفی قبول کرلیا ہے ۔ اس کی تصدیق خود ریاست کے وزیر اعلی چرنجیت سنگھ چننی نے منگل کو کی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اب ڈی جی پی بھی بدلے جاسکتے ہیں ۔ اسی کے ساتھ پنجاب کانگریس میں طویل عرصہ تک کیپٹن کے ساتھ چلے تنازع میں جیت حاصل کرنے کے بعد اب نوجوت سنگھ سدھو وزیر اعلی چرنجیت سنگھ چننی پر بھاری پڑتے نظر آرہے ہیں ۔ دراصل دیول کو لے کر ریاستی کارنگریس میں ایک مرتبہ پھر نیا تنازع پیدا ہوگیا تھا ۔

      اس سے پہلے اے پی ایس دیول نے ایک بیان جاری کرکے سدھو پر الزام لگایا تھا کہ ریاستی کانگریس کے سربراہ سرکار کے کام کاج میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور ان کے تبصرے بے ادبی اور ڈرگس معاملہ میں انصاف یقینی بنانے کی سرکار کی کوششوں کو پٹری سے اتار رہے ہیں ۔

      دیول نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے کہا کہ نوجوت سنگھ سدھو سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے اپنے سیاسی ساتھیوں کے خلاف غلط اطلاع پھیلا رہے ہیں ۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اگلے انتخابات کو دیکھتے ہوئے سدھو پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل کے آئینی عہدہ کو لے کر سیاست کرکے اپنے سیاسی مفادات کیلئے کام کررہے ہیں ۔ وہ پارٹی کے کام کاج کو خراب کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں ۔

      سدھو کے اعتراض کے بعد مشکل میں آئے دیول

      سدھو کے اعتراض کے بعد دیول کی تقرری تنازع میں آگئی تھی ۔ سدھو نے 28 ستمبر کو دیگر باتوں کے علاوہ دیول کی تقرری کی مخالفت کرتے ہوئے پی پی سی سی سربراہ کے عہدہ سے اس بنیاد پر استعفی دیدیا تھا کہ دیول سابق ڈی جی پی سمیدھ سنگھ سینی اور پرمراج سنگھ امراننگل کے دفاعی وکیل تھے ۔ دونوں بہلبل کلاں پولیس فائرنگ معاملہ میں ملزم تھے ۔ حالانکہ دیول کی تقرری کے بعد یہ بھی بحث جاری تھی کہ وہ سینی اور امراننگل کے وکیل ہونے کے ناطے نہ تو پیش ہوپائیں گے اور نہ ہی متعلقہ معاملات میں ریاست کو صلاح دے پائیں گے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: