உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پھر سدھو کے آگے جھکی کانگریس! وزیر اعلی چنی نے کہا : پارٹی صدر سے مشورہ کے بعد ہوگی ڈی جی پی کی تقرری

    پھر سدھو کے آگے جھکی کانگریس! چنی نے کہا:پارٹی صدر سے مشورہ کے بعد ہوگی ڈی جی پی کی تقرری

    پھر سدھو کے آگے جھکی کانگریس! چنی نے کہا:پارٹی صدر سے مشورہ کے بعد ہوگی ڈی جی پی کی تقرری

    Charanjit Singh Channi News: پنجاب کے وزیر اعلی چرنجیت سنگھ چنی نے اتوار کو کہا کہ ڈی جی پی کے نام کو ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو ، سبھی وزرا اور ممبران اسمبلی کے ساتھ صلاح و مشورہ کرنے کے بعد حتمی شکل دی جائے گی ۔

    • Share this:
      چنڈی گڑھ : پنجاب کے وزیر اعلی چرنجیت سنگھ چنی نے اتوار کو کہا کہ ڈی جی پی کے نام کو ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو ، سبھی وزرا اور ممبران اسمبلی کے ساتھ صلاح و مشورہ کرنے کے بعد حتمی شکل دی جائے گی ۔ چنی نے کہا کہ نئے ڈی جی پی کی تقرری قانون کے تحت کی جائے گی اور ریاستی سرکار نے 30 سال کے تجربہ والے سبھی سینئر پولیس افسران کا پینل مرکز کو بھیج دیا ہے ۔

      چنی نے کہا کہ ڈی جی پی کے نام پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے ۔ دراصل ریاست کے ڈی جی پی کے طور پر اقبال پریت سنگھ سہوتا کی تقرری نے وزیر اعلی چنی اور سدھو کے درمیان تنازع کھڑا کردیا ہے ، کیونکہ سدھو نے کچھ دنوں پہلے ہی ڈی جی پی کی تقرری پر اپنا اعتراض ظاہر کرتے ہوئے پنجاب کانگریس صدر کے عہدہ سے استعفی دیدیا تھا ۔

      چنی نے ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ وہ تقرریوں کو لے کر سخت نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوت سنگھ سدھو اپنا رد عمل دے سکتے ہیں اور پارٹی ان پر غور کرے گی ۔ اس کے ساتھ ہی چنی نے سدھو کو بات چیت کیلئے بھی مدعو کیا ۔ میٹنگ کے بعد سدھو مبینہ طور پر مطئمن تھے اور انہوں نے اپنے عہدہ پر بنے رہنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

      کانگریس لیڈر سدھو نے اتوار کو اپنی پارٹی سے پنجاب پولیس سربراہ اور ایڈووکیٹ جنرل کو بدلنے کا مطالبہ پھر سے دوہرایا تھا اور کہا تھا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہیں گے ۔ اس کے کچھ ہی گھنٹے بعد وزیر اعلی چنی نے کہا کہ ڈی جی پی کیلئے دس پولیس افسران کے نام مرکزی حکومت کو بھیجے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز سے تین نام موصول ہونے کے بعد سدھو ، وزرا اور ممبران اسبلی سے صلاح و مشورہ کرکے ایک اچھے افسر کو ڈی جی پی بنایا جائے گا ۔

      سدھو نے اتوار کو ٹویٹ کیا تھا کہ بے ادبی کے معاملہ اور منشیات کے کاروبار کے قصورواروں کی گرفتاری کی مانگ کی وجہ سے ہماری سرکار 2017 میں آئی تھی اور اس میں ناکام رہنے پر لوگوں نے پچھلے وزیر اعلی کو ہٹا دیا ۔ اب اے جی / ڈی جی کی تقرری سے متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکا جارہا ہے ، انہیں ہٹایا جانا چاہئے ورنہ ہم منہ دکھانے کے لائق نہیں رہیں گے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: