உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سدھو کے وفادار Ex - MLA کو کانگریس نے پارٹی سے نکالا، کی تھی پارٹی مخالف بیان بازی

    سدھو کے وفادار Ex - MLA کو کانگریس نے پارٹی سے نکالا، کی تھی پارٹی مخالف بیان بازی

    سدھو کے وفادار Ex - MLA کو کانگریس نے پارٹی سے نکالا، کی تھی پارٹی مخالف بیان بازی

    کانگریس ہائی کمان نے پنجاب کے سابق ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو کے وفادار سرجیت دھیمان کو پارٹی سے باہر نکال دیا ہے ۔ سرجیت دھیمان امرگڑھ سے کانگریس کے سابق ایم ایل اے ہیں ۔ انہیں پارٹی مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے کانگریس سے نکال دیا گیا ہے۔

    • Share this:
      چنڈی گڑھ : کانگریس ہائی کمان نے پنجاب کے سابق ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو کے وفادار سرجیت دھیمان کو پارٹی سے باہر نکال دیا ہے ۔ سرجیت دھیمان امرگڑھ سے کانگریس کے سابق ایم ایل اے ہیں ۔ انہیں پارٹی مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے کانگریس سے نکال دیا گیا ہے۔ سرجیت دھیمان نے امریندر راجہ وڑنگ کی پنجاب پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر کے طور پر تقرری کی مخالفت کی تھی ۔ انہوں نے امریندر راجہ وڑنگ کو نوآموز اور بدعنوان قرار دیا تھا ۔ اس اخراج کو پارٹی کے احکامات پر عمل نہ کرنے والے لیڈروں کے لئے وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے :  اپنے  بارڈر سیکیورٹی فورس کے بارے میں جانیے، کیسے کام کرتی ہے یہ


      کانگریس کے سینئر لیڈروں نے آنے والے دنوں میں دوسروں کے خلاف بھی ایسی ہی کارروائی کو مسترد نہیں کیا ہے۔ سرجیت دھیمان نے نئے سربراہ کی تقرری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ امریندر راجہ وڑنگ کو انڈین نیشنل یوتھ کانگریس کے صدر کی حیثیت سے اپنے دور میں بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ نیوز 18 سے بات چیت کرتے ہوئے سرجیت دھیمان نے کہا تھا کہ راجہ وڑنگ کو پی پی سی سی صدر بنانے کا پارٹی ہائی کمان کا فیصلہ درست نہیں ہے۔ وہ اناڑی، کرپٹ اور موقع پرست ہیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : کیا رمضان کے مہینہ میں میک اپ کرنے سے ٹوٹ جاتا ہے روزہ؟


      سرجیت دھیمان نے امریندر راجہ وڑنگ کو ریاست کا پارٹی صدر بنانے کے فیصلے کو پنجاب کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ نئے صدر کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔ پنجاب کے کانگریسی کارکنان راجہ وڑنگ کو صدر کے طور پر قبول نہیں کریں گے۔ سرجیت دھیمان نے کہا تھا کہ جب راجہ وڑنگ ، یوتھ کانگریس کے قومی صدر تھے ، تو ان پر دیگر ریاستوں میں ٹکٹ بیچنے کا الزام لگا تھا۔ اس لیے ہم ان سے زیادہ توقع نہیں رکھ سکتے ہیں ۔

      غور طلب ہے کہ کانگریس ہائی کمان نے پنجاب انتخابات میں پارٹی کی قابل رحم کارکردگی کے بعد ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد ریاست میں کانگریس کی تنظیم نو کی جارہی رہی ہے۔ نہ صرف سدھو بلکہ ان کے قریبی سکھ پال سنگھ کھیرا جیسے کئی دوسرے لیڈروں کو بھی پارٹی نے نظر انداز کیا ہے۔ یہ سبھی پنجاب قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لئے ہائی کمان سے لابنگ کر رہے تھے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: