உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Punjab Exit Poll Result 2022: پنجاب میں AAP بننے جا رہی ہے سب سے بڑی پارٹی؟ جانیں کیا کہتے ہیں ایگزٹ پول

    حالانکہ ایگزٹ پول کے نتائج اندازے پر مبنی ہیں، حقیقی نتائج 10 مارچ کو ہی سامنے آئیں گے۔ پنجاب میں اسمبلی (Punjab Assembly Elections) کی 117 سیٹیں ہیں۔ کسی بھی پارٹی کو حکومت بنانے کے لئے 59 سیٹوں کی ضرورت ہوگی۔

    حالانکہ ایگزٹ پول کے نتائج اندازے پر مبنی ہیں، حقیقی نتائج 10 مارچ کو ہی سامنے آئیں گے۔ پنجاب میں اسمبلی (Punjab Assembly Elections) کی 117 سیٹیں ہیں۔ کسی بھی پارٹی کو حکومت بنانے کے لئے 59 سیٹوں کی ضرورت ہوگی۔

    حالانکہ ایگزٹ پول کے نتائج اندازے پر مبنی ہیں، حقیقی نتائج 10 مارچ کو ہی سامنے آئیں گے۔ پنجاب میں اسمبلی (Punjab Assembly Elections) کی 117 سیٹیں ہیں۔ کسی بھی پارٹی کو حکومت بنانے کے لئے 59 سیٹوں کی ضرورت ہوگی۔

    • Share this:
      ملک کے پانچ ریاستوں میں 10 فروری سے شروع ہوئے اسمبلی انتخابات (2022 Assembly Elections) آج ختم ہوگئے ہیں۔ الیکشن ختم ہونے کے ساتھ ہی اب ایگزٹ پول کے نتائج آگئے ہیں، جس میں عام آدمی پارٹی سب سے بڑی بنتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ 10 مارچ کو آنے والے نتائج سے پہلے یہ ایگزٹ پول (Punjab Exit Polls) ان پانچوں ریاستوں میں کس پارٹی کی جیت ہو رہی ہے، اس کی تصویر تھوڑی صاف کر دیں گے۔ حالانکہ ایگزٹ پول کے نتائج اندازے پر مبنی ہیں، حقیقی نتائج 10 مارچ کو ہی سامنے آئیں گے۔ پنجاب میں اسمبلی (Punjab Assembly Elections) کی 117 سیٹیں ہیں۔ کسی بھی پارٹی کو حکومت بنانے کے لئے 59 سیٹوں کی ضرورت ہوگی۔

      پنجاب میں کانگریس چرنجیت سنگھ چنی (Charanjit Singh Channi) کے چہرے پر اسمبلی الیکشن لڑ رہی ہے۔ دوسرے سبھی سروے کے مطابق، جیت کا دعویٰ کر رہی عام آدمی پارٹی نے بھگونت مان کو وزیر اعلیٰ عہدے کا امیدوار بنایا ہے۔ وہیں کیپٹن امریندر سنگھ نے کانگریس چھوڑ کر اپنی پارٹی بناکر بی جے پی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑا ہے تو وہیں بی جے پی نے اس بار اپنے پرانی اتحادی جماعت شرومنی اکالی دل کا ساتھ نہ رکھ کر اسمبلی الیکشن لڑا۔


      پنجاب میں کتنی فیصد ہوئی ووٹنگ؟

      پنجاب کی سبھی 117 سیٹوں پر 20 فروری کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ 10 مارچ کو آنے والے نتائج سے پہلے آج آنے والے ایگزٹ پول میں ریاست کے نتائج کی تصویر کچھ صاف ہوجائے گی۔ پنجاب الیکشن کے قریب 72 فیصد رائے دہندگان نے اپنے حق رائے کا استعمال کیا۔ ریاست میں گزشتہ تین اسمبلی انتخابات سے اس کا موازنہ کیا جائے تو اس بار سب سے کم ووٹنگ ہوئی ہے۔ سال 2017 کے پنجاب اسمبلی الیکشن میں 77.40 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی، جبکہ 2007 میں 75.45 اور 2012 یہ 78.20 فیصد رہا تھا۔ حالانکہ 2002 کے الیکشن میں ووٹنگ کافی کم ہوئی تھی اور یہ محض 65.14 فیصد تھا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      کیسے رہے تھے2017 میں پنجاب ایگزٹ پول کے نتائج، کیا تھی حقیقت، جانئے سب کچھ

      پنجاب میں کل کتنے رائے دہندگان؟

      ریاست میں 81,33,930 مرد، 73,35,406 خاتون رائے دہندگان اور تھرڈ جینڈر کے 282 رائے دہندگان رجسٹرڈ ہیں۔ ریاست کی سبھی اسمبلی سیٹوں میں مکتسر ضلع کی گدّیرباہا سیٹ پر سب سے زیادہ 84.93 فیصد ووٹنگ ہوئی اور سب سے کم 55.40 فیصد ووٹنگ امرتسر مغربی سیٹ پر ہوئی۔

      کونسی سیٹ پر انتخابی میدان میں رہے بڑے چہرے

      پنجاب کانگریس کے صدر نوجوت سنگھ سدھو اپنی پرانی سیٹ امرتسر مشرق سے ہی انتخابی میدان میں ہیں۔ وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی نے بھی اپنی چمکور صاحب اور بھدوڑ سیٹ سے الیکشن لڑا۔ بھگونت مان کی دھری سیٹ سے ٹکٹ دیا گیا تھا۔ وہیں کانگریس چھوڑ چکے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ پٹیالی شہری سیٹ سے الیکشن اکھاڑے میں کودے۔ ڈرگس کیس میں پھنسے وکرم سنگھ مجیٹھیا نے نوجوت سنگھ سدھو کا چیلنج مانتے ہوئے امرتسر مشرق سیٹ سے الیکشن لڑا ہے۔ وہیں شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل نے اس بار جلال آباد سیٹ سے الیکشن لڑا ہے۔

      You can get more updates on Exit Polls Results 2022 on ShareChat

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: