உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Punjab Exit Poll 2022 Results: پنجاب میں عام آدمی پارٹی کو بڑی اکثریت ملنے کا امکان

    Punjab Exit Poll 2022 Results: پنجاب میں عام آدمی پارٹی کو بڑی اکثریت ملنے کا امکان

    Punjab Exit Poll 2022 Results: پنجاب میں عام آدمی پارٹی کو بڑی اکثریت ملنے کا امکان

    پنجاب سمیت پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور اب 10 مارچ کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ پنجاب کی 117 سیٹوں کے لئے 20 فروری کو ووٹ ڈالے گئے تھے۔ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ایگزٹ پول بھی آنے شروع ہوگئے ہیں۔

    • Share this:
      Punjab Exit Poll 2022 Results: پنجاب سمیت پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور اب 10 مارچ کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ پنجاب کی 117 سیٹوں کے لئے 20 فروری کو ووٹ ڈالے گئے تھے۔ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ایگزٹ پول بھی آنے شروع ہوگئے ہیں۔ بتادیں کہ ایگزٹ پولس ووٹنگ کے دوران ہوئے سروے پر مبنی ہوتے ہیں اور اس کے نتائج کو حتمی نہیں مانا جاسکتا ہے۔ کافی مواقع پر ایسا ہوا ہے، جس میں انتخابی نتائج، ایگزٹ پولس کے بالکل برعکس آئے ہیں۔


      پنجاب میں اس مرتبہ سبھی کی نظریں کانگریس اور عام آدمی پارٹی پر مرکوز ہیں۔ عام آدمی پارٹی پوری طاقت کے ساتھ انتخابی میدان میں اتری ہے جبکہ کانگریس اقتدار میں واپسی کرنے کی پوری کوشش کرے گی۔ وہیں پنجاب کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے باغی کیپٹن امریندر سنگھ کی پارٹی کا بھی رول اہم ہوسکتا ہے، جو بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے میدان میں اتری ہے۔

      پنجاب میں 2017 میں فیل ہوئے تھے ایگزٹ پول

      پنجاب میں ایگزٹ پول کے مطابق، عام آدمی پارٹی کی حکومت بن سکتی ہے جبکہ کانگریس دوسرے نمبر پر رہے گی۔ ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں ایگزٹ پول نے کتنی صحیح پیشن گوئی کی تھی۔ سال 2017 کے پنجاب الیکشن میں ایگزٹ پول کی پیشین گوئی بھی صحیح نہیں رہی تھی۔ سبھی ایگزٹ پول عام آدمی پارٹی کو سب سے زیادہ سیٹیں دے رہے تھے، لیکن عام آدمی پارٹی صرف 20 سیٹوں پر سمٹ گئی اور کانگریس نے 77 سیٹیں جیت کر مکمل اکثریت کی حمایت بنائی تھی۔ پنجاب میں 117 اسمبلی نشستیں ہیں۔ حکومت بنانے کے لئے 59 سیٹوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ سال 2017 کے ایگزٹ پول میں ایکس ایم آر سی نے عام آدمی پارٹی کو 55 سیٹیں دی تھیں، لیکن عام آدمی پارٹی صرف  20 سیٹوں پر سمٹ گئی تھی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: