உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Punjab Election Results 2022 :جانئے کیوں آئی پنجاب میں سیاسی سونامی، جس نے کانگریس اور ایس اے ڈی کو حاشیہ پر لادیا

    Punjab Election Results 2022 : پنجاب میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے رجحانات سے تصویر تقریبا صاف ہوگئی ہے کہ عام آدمی پارٹی ریاست میں سرکار بنانے جارہی ہے ۔ بدلاو کی اس سونامی میں کانگریس اور شیرومنی اکالی دل اس قدر تباہ ہوگئی کہ انہیں آنے والے پانچ سالوں میں اپنا کیڈر سنبھال کر رکھنا بھی مشکل ہوجائے گا ۔

    Punjab Election Results 2022 : پنجاب میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے رجحانات سے تصویر تقریبا صاف ہوگئی ہے کہ عام آدمی پارٹی ریاست میں سرکار بنانے جارہی ہے ۔ بدلاو کی اس سونامی میں کانگریس اور شیرومنی اکالی دل اس قدر تباہ ہوگئی کہ انہیں آنے والے پانچ سالوں میں اپنا کیڈر سنبھال کر رکھنا بھی مشکل ہوجائے گا ۔

    Punjab Election Results 2022 : پنجاب میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے رجحانات سے تصویر تقریبا صاف ہوگئی ہے کہ عام آدمی پارٹی ریاست میں سرکار بنانے جارہی ہے ۔ بدلاو کی اس سونامی میں کانگریس اور شیرومنی اکالی دل اس قدر تباہ ہوگئی کہ انہیں آنے والے پانچ سالوں میں اپنا کیڈر سنبھال کر رکھنا بھی مشکل ہوجائے گا ۔

    • Share this:
      چنڈی گڑھ : پنجاب میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے رجحانات سے تصویر تقریبا صاف ہوگئی ہے کہ عام آدمی پارٹی ریاست میں سرکار بنانے جارہی ہے ۔ بدلاو کی اس سونامی میں کانگریس اور شیرومنی اکالی دل اس قدر تباہ ہوگئی کہ انہیں آنے والے پانچ سالوں میں اپنا کیڈر سنبھال کر رکھنا بھی مشکل ہوجائے گا ۔ کیپٹن امریندر کے وزیر اعلی رہتے ہوئے پنجاب میں بدلاو کی لہر اتنی مضبوط نہیں تھی ، لیکن انہیں اقتدار سے ہٹانے کے بعد یہ لہر آندھی میں تبدیل ہوتی دکھائی دی ، کیونکہ کانگریس صدر نوجوت سنگھ سدھو نے اپنی ہی سرکار پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کٹگھڑے میں کھڑا کردیا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : بھگونت مان نے کہا : عوام نے بدلاو کی سیاست کیلئے ووٹ کیا


      پنجاب کی حالت کیلئے کیپٹن امریندر کو ہر بات کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا ، کیپٹن کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد خود وزیر اعلی بننے کی کوشش کی ، نہیں بنے تو وزیر اعلی کا چہرہ بننے کی کوشش کی ، چننی کو وزیر اعلی بنایا تو ان کے خلاف مورچہ کھولا ۔

      اس کے علاوہ بدلاو کی اس سونامی کا سب سے بڑا فیکٹر کسان آندولن رہا ۔ حالانکہ اس کا پہلے سے حاشیہ پر بی جے پی کو زیادہ نقصان نہیں ہوا کیونکہ وہ 1996 میں ایس اے ڈی کے رحم و کرم پر 23 سیٹوں پر الیکشن لڑتی تھی ۔ الگ ہونے کے بعد وہ آج بھی وہیں کھڑی نظر آرہی ہے ۔ حالانکہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس کا ووٹ شیئر کہاں کھڑا ہے ۔ کسان آندولن کے دوران کسان اور عوام کے کانگریس اور اکالی دل کا رول شک کی نظر سے ہی دیکھا ، جس کا سیدھا فائدہ اے اے پی کو ہوا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : رجحانات پر اکھیلیش یادو نے کہا : وقت آگیا ہے اب 'فیصلوں' کا


      اس کے علاوہ پنجاب کانگریس کے سابق صدر سنیل جاکھڑ کو وزیرا علی نہ بنانا یہ سبھی باتیں اس طرف اشارہ کررہی تھیں کہ کانگریس کے کیرکٹر اور چہروں میں صرف کرسی کی لڑائی تھی ۔ عوام کی کسی کو بھی کوئی پروا نہیں تھی ۔ کئی وجوہات تھے جو پنجاب کی سیاست میں بدلاو کی آندھی لے کر آئے ۔

      حالانکہ کانگریس ہائی کمان نے سی ایم چننی پر دلت کارڈ کھیلا ، لیکن ان کے بھتیجے ریت کھودائی کے معاملہ میں ساتھیوں سمیت 10 کروڑ کے کیش کے ساتھ پکڑے گئے ، جس سے ان کی شبیہ کو کافی نقصان پہنچا اور عام آدمی پارٹی نے اس کو بہتر طریقہ سے اپنے لئے استعمال کیا ۔

      کمار وشواس کے دہشت گردی سے متعلق الزامات سے عام آدمی پارٹی کے جہاں کمزور ہونے کا اندیشہ تھا تو وہیں وزیر اعظم مودی اور امت شاہ کی تقریروں کو عوام نے سازش قرار دیا اور آخری وقت میں اے اے پی اور بھی مضبوط ہوگئی ۔

      نیز کیپٹن کے ہٹنے کے بعد نوجوت سنگھ سدھو کا رویہ اور بے زبانی بھی کانگریس کو مہنگی پڑی ۔ حالانکہ بی جے پی کے پاس یہاں کھونے کیلئے کچھ بھی نہیں تھا ، لیکن کانگریس اور شیرومنی اکالی دل اپنا کیڈر سنبھال نہیں سکی تو 2024 لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی اپنی زمین مضبوط کرنے کی کوشش کرے گی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: