உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Punjab elections: آدھی آبادی پر پارٹیوں کا بھروسہ نہیں، جانیے کس پارٹی نے کتنے خاتون امیدوار کو دئیے ٹکٹ

    علامتی تصویر (فائل فوٹو)

    علامتی تصویر (فائل فوٹو)

    ریاست کے 2.12 کروڑ خاتون رائے دہندوں (Women Voters) سے ووٹ کھینچنے کے لئے سبھی پارٹیوں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی ریس لگی ہوئی ہے لیکن آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ جب خواتین کو ٹکٹ دینے کا نمبر آتا ہے تو اس میں سبھی پارٹیاں پھسڈی نکل گئی ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی:پنجاب انتخابات (Punjab Elections) میں ریاست کے 2.12 کروڑ خاتون رائے دہندوں (Women Voters) سے ووٹ کھینچنے کے لئے سبھی پارٹیوں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی ریس لگی ہوئی ہے لیکن آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ جب خواتین کو ٹکٹ دینے کا نمبر آتا ہے تو اس میں سبھی پارٹیاں پھسڈی نکل گئی ہیں۔ پنجاب میں اسمبلی کی 117 نشستوں پر انتخابات 20 فروری کو ہونے ہیں۔ تقریباً تمام پارٹیوں نے زیادہ تر سیٹوں کے لیے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ شرومنی اکالی دل-بی ایس پی اتحاد نے 117 میں سے صرف 4 فیصد سیٹوں پر خواتین امیدوار کھڑے کیے ہیں، جب کہ کانگریس، جس نے یوپی میں 40 فیصد سیٹوں پر خواتین کو ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا ہے، پنجاب میں صرف 10 فیصد سیٹوں پرخواتین امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔

      مشکل سے پارٹی کے 10 فیصدی خاتون امیدوار
      117 سیٹوں میں سے شرومنی اکالی دل-بی ایس پی اتحاد نے صرف 5 سیٹوں پر خواتین کو ٹکٹ دیا ہے۔ ان میں سے چار شیود اور ایک کو مایاوتی کی بی ایس پی نے میدان میں اتارا ہے۔ کانگریس نے اب تک 109 سیٹوں کے لیے اپنے امیدواروں کا اعلان کیا ہے، جن میں سے اس نے 11 سیٹوں پر خواتین کو میدان میں اتارا ہے۔ عام آدمی پارٹی، جو اس مرتبہ پنجاب میں پوری طاقت کے ساتھ اُتری ہے، اس نے 117 میں سے 12 سیٹوں پر خواتین کو میدان میں اتارا ہے۔ یہ تقریباً 10 فیصد ہے۔ بی جے پی اور کیپٹن امریندر سنگھ کی پارٹی پنجاب لوک کانگریس اتحاد نے اب تک 106 سیٹوں کے لیے اپنے امیدواروں کا اعلان کیا ہے، جن میں سے 8 سیٹوں پر خواتین کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ یعنی یہ تقریباً 7.5 فیصد ہے۔

      خواتین کے لئے وعدوں کی بوچھار
      بلاشبہ پنجاب میں سیاسی جماعتوں نے خواتین کو ٹکٹ دینے سے گریز کیا ہے لیکن ہر پارٹی نے خواتین کے لیے راغب کرنے والے وعدوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ سب سے پہلے شیود کے سکھ ویر سنگھ بادل نے بی پی ایل خاندان کی خواتین کو ماہانہ 2000 روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ خاندان کی خاتون سربراہ کو بلو راشن کارڈ کا وعدہ کیا گیا ہے۔ پچھلے سال دسمبر میں، اروند کجریوال نے پنجاب کے انتخابات جیتنے پر 18 سال سے زیادہ عمر کی تمام خواتین کو 1000 روپے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس ماہ کے شروع میں، پنجاب کانگریس کے صدر نوجوت سنگھ سدھو نے ہر خاتون گھریلو ملازمہ کو 2000 روپے مفت اور ایک سال میں 8 گیس سلنڈر دینے کا وعدہ کیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: