உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Marriage Age For Boys:ہائی کورٹ کا فیصلہ- 21 سال سے کم عمر کے لڑکے نہیں کرسکتے شادی، لیکن لیو اِن میں رہنے کی چھوٹ

    لیو اِن میں رہنے والے جوڑے کو سیکورٹی دینے کا ہائی کورٹ نے دیا حکم۔

    لیو اِن میں رہنے والے جوڑے کو سیکورٹی دینے کا ہائی کورٹ نے دیا حکم۔

    ہائی کورٹ پنجاب کے گروداس پور ضلع کے ایک نوجوان جوڑے کی درخواست پر سماعت کررہا تھا۔ لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے والے جوڑے نے اس درخواست کے ذریعے سیکورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ دونوں ہی 18 سال سے زیادہ عمر کے ہیں۔ نوجوان 18 سال کا ہے لیکن ہندو میریج ایکٹ کے تحت قانونی طور سے وہ 21 سال کی عمر پوری ہونے تک شادی نہیں کرسکتا۔

    • Share this:
      چنڈی گڑھ: لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر (Marriage Age of Women) بڑھائے جانے کو لے کر تنازع جاری ہے۔ اس درمیان پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ (Punjab Haryana High Court) نے حال ہی میں ایک معاملےمیں کہا ہے کہ 21 سال کی عمر سے کم کا کوئی بھی نوجوان آدمی شادی (Male Marriage Age) تو نہیں کرسکتا لیکن وہ 18 سال یا اُس سے زیادہ عمر کی خاتون کے ساتھ اُس کی رضامندی پر ہی کپل کی طرح اُس کے ساتھ رہ سکتا ہے۔ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ مئی 2018 کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ کوئی بھی نوجوان جوڑا شادی کے بغیر بھی ساتھ رہ سکتاہے۔

      ہائی کورٹ پنجاب کے گروداس پور ضلع کے ایک نوجوان جوڑے کی درخواست پر سماعت کررہا تھا۔ لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے والے جوڑے نے اس درخواست کے ذریعے سیکورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ دونوں ہی 18 سال سے زیادہ عمر کے ہیں۔ نوجوان 18 سال کا ہے لیکن ہندو میریج ایکٹ کے تحت قانونی طور سے وہ 21 سال کی عمر پوری ہونے تک شادی نہیں کرسکتا۔

      اس کے بعد نوجوان جوڑے نے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں درخواست داخل کرکے سیکورٹی کی مانگ کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُنہیں اُن کے افراد خاندان کی جانب سے جان کا خطرہ ہے۔ ایسا اُن کی ریلیشن شپ کو لے کر ہے۔ نوجوان جوڑے کے وکیل نے عدالت میں کہا ہے کہ اُنہیں ڈر ہے کہ اُن کے افراد خاندان اُنکا قتل کروا دیں گے۔

      ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس ہرنریش سنگھ گل نے کہا ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہر شخص کی آزادی اور زندگی کی حفاظت کرے۔ جج نے گروداس پور ایس ایس پی کو حکم دیا ہے کہ وہ نوجوان جوڑے کی درخواست پر فیصلہ لیں اور اُن کو سیکورٹی دے۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: