ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کورونا وائرس کی رفتار نے پھر بڑھائی تشویش ، پنجاب کے جالندھر میں نائٹ کرفیو نافذ

Jalandhar Imposes Night Curfew: جالندھر میں ہفتہ سے رات گیارہ بجے سے صبح پانچ بجے تک کرفیو لگا رہے گا ۔ اس دوران لوگوں کو بلاوجہ گھر سے باہر نکلنے پر پابندی ہوگی ۔

  • Share this:
کورونا وائرس کی رفتار نے پھر بڑھائی تشویش ، پنجاب کے جالندھر میں نائٹ کرفیو نافذ
کورونا وائرس کی رفتار نے پھر بڑھائی تشویش ، پنجاب کے جالندھر میں نائٹ کرفیو نافذ

چنڈی گڑھ : ویکسینیشن کے درمیان ملک کے کئی علاقوں میں ایک مرتبہ پھر سے کورونا وائرس کے معاملات تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ پنجاب میں بھی کورونا کے معاملات بڑھنے لگے ہیں ۔ وائرس کے بڑھتے معاملات کے پیش نظر جالندھر میں نائٹ کرفیو لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق جالندھر میں ہفتہ سے رات گیارہ بجے سے صبح پانچ بجے تک کرفیو لگا رہے گا ۔ اس دوران لوگوں کو بلاوجہ گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ نائٹ کرفیو میں صرف ضروری خدمات کی چھوٹ دی گئی ۔ حالانکہ یہ نائٹ کرفیو کب تک لاگو رہے گا ، اس کے بارے میں کوئی آفیشیل جانکاری نہیں ملی ہے ۔


ڈی سی گھنشیام تھوری نے کہا کہ کورونا کے خطرے سے نمٹنے کیلئے لوگوں کو انتظامیہ کا تعاون کرنا چاہئے ۔ شہر میں کورونا وائرس کے معاملات ابھی تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ نئے مثبت معاملات اسکولی بچوں میں سامنے آرہے ہیں ۔




تمل ناڈو میں 31 مارچ تک لاک ڈاون

فروری مہینے کے آخری دن تمل ناڈو حکومت نے ریاست میں 31 مارچ تک لاک ڈاون کو بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ حالانکہ ریاست میں کوئی نیا سخت ضابطہ لاگو نہیں کیا گیا ہے ، بلکہ مرکزی حکومت کی گائیڈلائنس کے تحت ہی قدم اٹھائے گئے ہیں ۔ انتظامیہ کو کورونا ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔

کورونا سے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت

ملک میں کورونا وائرس سے اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 57 ہزار 656 افراد کی موت ہوئی ہے ، جن میں مہاراشٹر سے 52 ہزار 393 ، تمل ناڈو سے 12 ہزار 513 ، کرناٹک سے 12 ہزار 354 ، دہلی سے 10 ہزار 918 ، مغربی بنگال سے 10 ہزار 275 ، اترپردیش سے 8 ہزار 729 اور آندھر پردیش سے سات ہزار 172 مریض شامل ہیں ۔

وزارت صحت نے کہا کہ جن مریضوں کی موت ہوئی ہے ، ان میں سے 70 فیصد سے زیادہ مریض دیگر بیماریوں سے بھی متاثر تھے ۔ وزارت نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ اس کے اعداد و شمار کو آئی سی ایم آر سے ملایا جارہا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 06, 2021 05:36 PM IST