உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پنجاب میں کانگریس حکومت بنانے کا فارمولہ طے، سنیل جھاکھڑ بن سکتے ہیں وزیر اعلیٰ، دو نائب وزیر اعلیٰ بنائے جانے کا امکان

    پنجاب میں کانگریس حکومت بنانے کا فارمولہ طے، سنیل جھاکھڑ بن سکتے ہیں وزیر اعلیٰ!

    پنجاب میں کانگریس حکومت بنانے کا فارمولہ طے، سنیل جھاکھڑ بن سکتے ہیں وزیر اعلیٰ!

    کیپٹن امریندر سنگھ (Amarinder Singh) کے استعفیٰ دینے کے بعد کئی نام وزیر اعلیٰ عہدے کی ریس میں سامنے آئے ہیں۔ سنیل جھاکھڑ کا نام سب سے آگے بتایا جا رہا ہے۔ حالانکہ ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ آخری لمحے میں کانگریس بھی بی جے پی کی طرح حیران کن فیصلہ لے سکتی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: کیپٹن امریندر سنگھ (Amarinder Singh) کے استعفیٰ کے بعد پنجاب میں کون بنے گا کانگریس کا نیا وزیراعلیٰ (Punjab New CM)، اس سے متعلق قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ ہفتہ کے روز ہوئی کانگریس قانون ساز کی میٹنگ میں کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی (Sonia Gandhi) کو فیصلہ لینے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ اس درمیان، ذرائع کے مطابق پنجاب میں حکومت بنانے کا فارمولہ طے کرلیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سنیل جھاکھڑ کو وزیر اعلیٰ بنایا جاسکتا ہے جبہ دو نائب وزیر اعلیٰ بھی بنائے جانے کی خبر ہے۔

      ذرائع نے بتایا کہ ایک نائب وزیر اعلیٰ دلت طبقے سے جبکہ ایک نائب وزیر اعلیٰ سکھ طبقے سے ہوسکتا ہے۔ دلت نائب وزیراعلیٰ کی ریس میں سابق کابینی وزیر چرنجیت سنگھ چنی اور سینئر رکن اسمبلی راجکمار ویرکا کا نام آگے چل رہا ہے۔ سکھ طبقے سے نائب وزیراعلیٰ کی دوڑ میں کیپٹن امریندر سنگھ کے خلاف بغاوت کرنے والے سابق کابینی وزیر سکھجندرسنگھ رندھاوا کا نام آگے چل رہا ہے۔

      امریندر سنگھ کے استعفیٰ کے بعد کئی نام وزیر اعلیٰ کی دوڑ میں سامنے آئے ہیں۔ سنیل جھاکھڑ (Sunil Kumar Jakhar) کا نام سب سے آگے بتایا جارہا ہے۔ حالانکہ ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ آخری لمحے میں کانگریس بھی بی جے پی کی طرح حیران کرنے والا فیصلہ لے سکتی ہے۔ کانگریس کے عظیم لیڈر رہے بلرام جھاکھڑ کے بیٹے سنیل جھاکھڑ چار سال تک پنجاب کانگریس کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی پارٹی کے سبھی اراکین اسمبلی پر اچھی پکڑ بھی ہے۔ ایسے میں وہ اس ریس میں سب سے آگے مانے جا رہے ہیں۔

       کیپٹن امریندر سنگھ اور پنجاب کانگریس صدر نوجوت سنگھ سدھو کے درمیان ابھی تنازعہ ختم نہیں ہوا ہے۔ کیپٹن امریندر سنگھ نے استعفیٰ دینے کے بعد واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ نوجوت سنگھ سدھو کے وزیر اعلیٰ بننے کی مخالفت کرتے ہیں۔
      کیپٹن امریندر سنگھ اور پنجاب کانگریس صدر نوجوت سنگھ سدھو کے درمیان ابھی تنازعہ ختم نہیں ہوا ہے۔ کیپٹن امریندر سنگھ نے استعفیٰ دینے کے بعد واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ نوجوت سنگھ سدھو کے وزیر اعلیٰ بننے کی مخالفت کرتے ہیں۔


      ذرائع کے مطابق، کیپٹن امریندر سنگھ کی جگہ اب جو چہرہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر بیٹھے گا، سال 2022 کا اسمبلی انتخابات اس کی قیادت میں نہیں لڑا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق پارٹی نوجوت سنگھ سدھو کو بطور وزیراعلیٰ آگے نہیں کرنا چاہتی اور نہ ہی نوجوت سنگھ سدھو الیکشن سے ٹھیک پہلے خود وزیر اعلیٰ بننا چاہتے ہیں۔ پارٹی اور سدھو نہیں چاہتے کہ سدھو پر الزام لگے کہ ان کی وجہ سے کیپٹن امریندر سنگھ کو عہدہ چھوڑنا پڑا اور ساتھ ہی سدھو آنے والے اسمبلی انتخابات میں بطور پنجاب کانگریس ہائی کمان کو پرفارمنس دکھانا چاہتے ہیں۔

      امریندر سنگھ کے ’دوست‘ بھی وزیراعلیٰ عہدے کی دوڑ میں

      اس کے علاوہ راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ اور کانگریس کے سینئر لیڈر پرتاپ سنگھ باجوا کا نام بھی وزیراعلیٰ کی دوڑ میں شامل ہے۔ کبھی امریندر سنگھ کے دوست رہے پرتاپ سنگھ باجوا کے رشتے بعد میں کیپٹن امریندر سنگھ سے خراب ہوگئے تھے۔ پرتاپ سنگھ باجوا نے اسمبلی الیکشن لڑنے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ عہدے کی دوڑ میں وہ ’ڈارک ہارس‘ ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ کیپٹن امریندر سنگھ اور پنجاب کانگریس صدر نوجوت سنگھ سدھو کے درمیان ابھی تنازعہ ختم نہیں ہوا ہے۔ کیپٹن امریندر سنگھ نے استعفیٰ دینے کے بعد واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ نوجوت سنگھ سدھو کے وزیر اعلیٰ بننے کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کا رشتہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے ہے اور وہ ریاست کو برباد کردیں گے۔

       

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: