உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Sukhbir Badal Attacked: سکھبیر سنگھ بادل کی گاڑی پر حملہ ، اکالی دل کے کارکنان پر چلی گولیاں

    سکھبیر سنگھ بادل کی گاڑی پر حملہ ، اکالی دل کے کارکنان پر چلی گولیاں ۔ تصویر : ANI/Twitter

    سکھبیر سنگھ بادل کی گاڑی پر حملہ ، اکالی دل کے کارکنان پر چلی گولیاں ۔ تصویر : ANI/Twitter

    Sukhbir Badal Attacked: بھیڑ نے بادل کی گاڑی پر بھی حملہ کیا ۔ حالانکہ پتھراو کے وقت بادل گاڑی میں موجود نہیں تھے ۔ انہیں محفوظ جگہ پر لے جایا گیا تھا ۔ اکالی دل نے کانگریس پر کاغذات نامزدگی داخل کرنے سے روکنے کا الزام عائد کیا ہے ۔

    • Share this:
      پنجاب کے جلال آباد میں نگر کاونسل کے انتخابات سے پہلے حالات کشیدہ ہوگئے ہیں ۔ یہاں اکالی دل کے امیدوار کے کاغذات نامزدگی داخل کرانے کیلئے پہنچے سکھبیر سنگھ بادل پر حملہ کیا گیا ۔ اس دوران ان کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا گیا ۔ ساتھ ہی شرپسندوں کی طرف سے اکالی دل کے کارکنان پر گولی چلائی جانے کی بھی خبر ہے ۔ اس واقعہ کے بعد اکالی دل اور کانگریس کارکنان کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔

      جلال آباد میں آج نگر کاونسل الیکشن میں اکالی دل کے امیدوار کے کاغذات نامزدگی داخل کئے جانے تھے ۔ اسی سلسلہ میں پارٹی کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل بھی وہاں پہنچے تھے ۔ اس دوران ان پر حملہ ہوگیا ۔ اکالی دل نے کانگریس پر اس حملے کا الزام لگایا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اکالی دل اور کانگریس کارکنان کے درمیان تنازع میں پتھراو ہوا اور گولیاں بھی چلیں ۔ خبر ہے کہ اکالی دل کے تین کارکنان کو گولی لگی ہے ۔



      بھیڑ نے بادل کی گاڑی پر بھی حملہ کیا ۔ حالانکہ پتھراو کے وقت بادل گاڑی میں موجود نہیں تھے ۔ انہیں محفوظ جگہ پر لے جایا گیا تھا ۔ اکالی دل نے کانگریس پر کاغذات نامزدگی داخل کرنے سے روکنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ اکالی دل کا کہنا ہے کہ کانگریس ہمیں کاغذات نامزدگی داخل کرنے سے روکنا چاہتی تھی ، اسی وجہ سے یہ حملہ کیا گیا ۔

      انگریزی اخبار دی ٹریبیون سے بات چیت کرتے ہوئے اکالی دل کے لیڈر پرم بنس سنگھ رومانا نے بتایا کہ مبینہ طورپر کانگریس پارٹی کے کارکنان کے حملے میں اکالی دل کے تین کارکنان زخمی ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حملہ آوروں کی قیادت کانگریس ممبر اسمبلی کا بھائی کررہا تھا ۔ ان کے مطابق یہ حملہ جلال آباد ایس ڈی ایم دفتر کے باہر ہوا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: