روڈ ریج کیس : سپریم کورٹ میں پنجاب حکومت نے کہا : نوجوت سنگھ سدھو کو تین سال کیلئے جانا چاہئے جیل

پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ روڈ ریج کے معاملہ میں ریاست کے وزیر نوجوت سنگھ سندھو کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کی طرف سے قصور وار ٹھہرایا جانا صحیح تھا

Apr 12, 2018 09:57 PM IST | Updated on: Apr 12, 2018 09:57 PM IST
روڈ ریج کیس : سپریم کورٹ میں پنجاب حکومت نے کہا : نوجوت سنگھ سدھو کو تین سال کیلئے جانا چاہئے جیل

پنجاب کے مقامی بلدیات کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو: فائل فوٹو۔

چنڈی گڑھ : پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ روڈ ریج کے معاملہ میں ریاست کے وزیر نوجوت سنگھ سندھو کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کی طرف سے قصور وار ٹھہرایا جانا صحیح تھا اور سدھو کو اس معاملہ میں تین سال کیلئے جیل جانا چاہئے ۔ یہ واقعہ 27 دسمبر 1988 کو اس وقت پیش آیا تھا ، جب پٹیالہ میں کار پارکنگ کو لے کر سدھو کی گرمان سنگھ نام کے ایک سن رسیدہ افراد سے کہا سنی شروع ہوگئی تھی ، جو دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگئی ۔

گرمان سنگھ کے ساتھ ان کا بھانجا بھی تھی ۔ بھانجے کے مطابق سدھو نے گرمان سنگھ کو گھونسہ مار کر سڑک پر گرا دیا تھا ، جس کے بعد فورا ہی ان کو اسپتال لے جایا گیا ، لیکن اس سے پہلے ہی وہ دم توڑ چکے تھے ۔

اس معاملہ میں پنجاب سرکار کی جانب سے موجود وکیل نے جسٹس جے چلمیشور اور جسٹس سنجے کشن کول کی بینچ کے سامنے کہا کہ پٹیالہ کے رہنے والے گرمان سنگھ کی موت سدھو کے ذریعہ گھونسہ مارنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نچلی عدالت کا یہ نتیجہ غلط تھا کہ سنگھ کی موت برین ہیمریج سے نہیں بلکہ حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوئی تھی ۔

پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ اس بات کا ایک بھی ثبوت موجود نہیں ہے کہ موت کی وجہ دل کا دورہ یا برین ہیمریج تھی ۔ نچلی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ نے رد کردیا تھا ۔ ملزم اے 1 ( نوجوت سنگھ سدھو ) نے گرمان سنگھ کو گھونسہ مارا تھا ، جس سے برین ہیمریج ہوا اور ان کی موت ہوگئی۔ (نیوز ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ ) ۔

Loading...

Loading...