ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

پٹنہ کی مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی کی کارکردگی سوالات کی زد میں ، برسر اقتدار پارٹی کے لیڈروں نے اٹھایا یہ بڑا سوال

جے ڈی یو ایم ایل سی ڈاکٹر خالد انور کے مطابق عربی و فارسی زبان میں روزگار کی کمی نہیں ہے ، لیکن ریاستی سطح کی یونیورسیٹی ہونے کے بعد بھی مولانا مظہرالحق یونیورسٹی نے اس سمت میں کوئی کام نہیں کیا ہے۔

  • Share this:
پٹنہ کی مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی کی کارکردگی سوالات کی زد میں ، برسر اقتدار پارٹی کے لیڈروں نے اٹھایا یہ بڑا سوال
پٹنہ کی مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی کی کارکردگی سوالات کی زد میں

پٹنہ کی مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی کی کارکردگی پر خود برسر اقتدار پارٹی کے لیڈروں نے سوال کھڑا کردیا ہے ۔ دراصل یونیورسیٹی کا قیام عربی و فارسی زبان کے فروغ کے لئے ہوا تھا ، لیکن یونیورسٹی کی جانب سے اس تعلق سے کوئی کام نہیں کیا جارہا ہے اور نہ ہی یونیورسٹی کو عربی و فارسی زبان سے کوئی مطلب ہے۔ ادھر یونیورسیٹی اپنے قیام کے 28 سال بعد بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔


نتیش کمار کے اقتدار میں آنے کے بعد مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسیٹی کو مستقل طور سے زمین پر اتارنے کی حکومت نے مہم شروع کی تھی ، لیکن 28 سال بعد بھی حکومت کی مہم کتنی رنگ لا سکی ہے ، اس کی مثال ہے کہ یہ یونیورسٹی آج بھی حج بھون کے پاس تعمیر ہوئی نئی عمارت کے چند کمروں میں کسی طرح رینگ رہی ہے ۔ حالانکہ اب یونیورسیٹی کو پٹنہ کے میٹھا پور میں پانچ ایکڑ زمین مل گئی ہے اور یونیورسٹی کا مستقل عمارت تیار ہورہا ہے ، لیکن یونیورسٹی جن مقاصد کو پورا کرنے کے نام پر بنائی گئی تھی ، وہ مقاصد یونیورسٹی کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں ۔


یونیورسٹی کا مقصد عربی و فارسی زبان کو فروغ دینا تھا اور عربی و فارسی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لئے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرنے تھے ، لیکن یونیورسیٹی نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ۔ مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی ، بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے ماتحت چلنے والے ریاست کے ایک سو بیس عالم اور فاضل کے مدرسوں کا صرف امتحان لیتی ہے اور طلبہ کو ڈگڑی دیتی ہے ۔ یہ امتحان لینے اور ڈگڑی دینے کے کام میں طلبہ کو پڑھانے کا کوئی انتظام نہیں ہے ۔ آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ عالم اور فاضل مدرسوں کے انتظامی امور کی ذمہ داری مدرسہ بورڈ کے پاس ہے اور امتحان اور ڈگڑی دینے کی ذمہ داری یونیورسیٹی کے پاس ۔


ادھرعربی و فارسی زبان کیلئے یونیورسٹی کی طرف سے آج تک کوئی اقدامات نہیں کیا گیا ہے جس سے طلبہ کو فائدہ ہوسکے ۔ معاملہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جےڈی یو کے مسلم لیڈروں نے یونیورسٹی پر سوال کھڑا کردیا ہے۔ جے ڈی یو ایم ایل سی ڈاکٹر خالد انور کے مطابق عربی و فارسی زبان میں روزگار کی کمی نہیں ہے ، لیکن ریاستی سطح کی یونیورسیٹی ہونے کے بعد بھی مولانا مظہرالحق یونیورسٹی نے اس سمت میں کوئی کام نہیں کیا ہے۔

ادھر اپوزیشن نے اس ناکامی کے پیچھے حکومت کا ہاتھ بتایا اور ساتھ ہی یونیورسٹی کی موجودہ انتظامیہ کی نا اہلی کو یونیورسٹی اور عربی و فارسی زبان کی خستہ حالی کا بڑا سبب قرار دیا ہے ۔ آرجےڈی لیڈر عارف حسین کا کہنا ہے کہ ایک تو حکومت کی جانب سے یونیورسیٹی کو بنیادی سہولیات دستیاب نہیں کرائی جارہی ہیں اور اوپر سے یونیورسٹی کی موجودہ انتظامیہ کو اس کی ترقی سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔

غورطلب ہے کہ اس سلسلے میں مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی کچھ بھی بولنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ یونیورسٹی کے وی سی پروفیسر خالد مرزا میڈیا سے دوری بنا کررکھتے ہیں۔ جب بھی ان سے یونیورسٹی کے سلسلے میں کوئی سوال کیا جاتا ہے تو وہ خاموش رہ جاتے ہیں اور جواب کو ٹال دیتے ہیں ۔ برسر اقتدار پارٹی کے لیڈروں کے ذریعہ یونیورسیٹی پر عربی و فارسی زبان کیلئے کام نہیں کرنے کا الزام لگائے جانے پر جب وی سی خالد مرزا سے رجوع کیا گیا تو انہوں نے کسی بھی طرح کی کوئی جانکاری دینے کی بجائے بعد میں ملنے کی بات کہہ کر سوالات کو پھر سے ٹالنے کی کوشش کی ۔
First published: Mar 16, 2020 10:18 PM IST