ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی فسادات کے دوران لوگوں کو مشتعل کرنے کے معاملے میں راگنی تیواری پر کسا شکنجہ

دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں ہونے والے فسادات کے نئے پہلو سامنے آرہے ہیں۔ دہلی اسمبلی اقلیتی فلاحی کمیٹی کے سامنے تقریباً درجن بھرایسے معاملے سامنے آئے، جن میں زیادہ چوٹ اور معذوری کے باوجود رپورٹ میں معمولی چھوٹ زمرہ میں رپورٹنگ کی گئی ہے۔

  • Share this:
دہلی فسادات کے دوران لوگوں کو مشتعل کرنے کے معاملے میں راگنی تیواری پر کسا شکنجہ
دہلی فسادات کے دوران لوگوں کو مشتعل کرنے کے معاملے میں راگنی تیواری پر کسا شکنجہ۔ فائل فوٹو

نئی دہلی: دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں ہونے والے فسادات کے نئے پہلو سامنے آرہے ہیں۔ دہلی اسمبلی اقلیتی فلاحی کمیٹی کے سامنے تقریباً درجن بھر ایسے معاملے سامنے آئے، جن میں زیادہ چوٹ اور معذوری  کے باوجود رپورٹ میں معمولی چھوٹ زمرہ میں رپورٹنگ کی گئی ہے۔ وہی آج کی میٹنگ میں راگنی تیواری نامی خاتون کا لوگوں کو بھڑکانے کا ویڈیو وائرل معاملے میں انتظامیہ پرکارروائی کو لے کرسوال اٹھایا گیا۔  آج کمیٹی کے سامنے لوگوں کو بھڑکانے کا ویڈیو چلایا گیا۔ ویڈیو میں راگنی تیواری نامی عورت پولیس والوں کے سامنے بھیڑ کو بھڑکانے کاکام کر رہی تھی۔ متعلقہ ویڈیو میں یہ عورت اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے اور پولیس والوں کو گالیاں دیتے ہوئے صاف طور پر سنی جاسکتی ہے۔ اس سے متعلق پرنسپل سیکریٹری ہوم نے اگلی میٹنگ میں رپورٹ پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی۔


ہاتھ اور انگلی کٹ گئی، لیکن لکھا گیا معمولی چوٹ


کمیٹی کے سامنے کئی ایسے میڈیکل کیس آئے، جن میں چوٹ کافی بڑی ہے، مگر میڈیکل رپورٹ میں ڈاکٹروں نے معمولی زمرہ میں کیس ڈال دیا، جس کی وجہ سے نہ ہی حکومت کی جانب سے طے شدہ معاوضہ ملا اور نہ ہی متعلقہ میڈیکل سرٹیفکیٹ۔ میٹنگ میں ہیلتھ سکریٹری  کے سامنے کمیٹی کے چیئرمین امانت اللہ خان نے توفیق، ماسٹر سلمان، ذاکر انصاری، فیروز اختر اور اکرم کے کیس رکھتے ہوئے بتایا کہ ان سب کو بڑی چوٹ آئی ہے اور کچھ ان میں سے معذور ہوگئے ہیں۔ اس کے باوجود ڈاکٹروں کی لاپرواہی سے ان کی میڈیکل رپورٹ میں معمولی چوٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ مصطفی آباد کے اکرم نامی شخص کو میٹنگ میں کمیٹی کے سامنے پیش بھی کیا گیا، جس کے ایک ہاتھ کو ڈاکٹروں نے کاٹ دیا اور دوسرے ہاتھ کی انگلی کاٹ دی مگر میڈیکل رپورٹ میں اسے معمولی زخمی کی فہرست میں رکھا گیا ہے اور صرف 20 ہزار روپئے معاوضہ دیا گیا ہے۔ ہیلتھ سکریٹری نے ایسے تمام کیسز کی دوبارہ تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔ ہیلتھ سکریٹری نے اس کے کیس پر دوبارہ غور کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد اکرم کے کیس کو معذوری کے زمرہ میں رکھ کر حکومت کی گائڈ لائن کے مطابق اسے 5 لاکھ کا معاوضہ دیا جائے گا۔


دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں ہونے والے فسادات کے نئے پہلو سامنے آرہے ہیں۔ دہلی اسمبلی اقلیتی فلاحی کمیٹی کے سامنے تقریباً درجن بھر ایسے معاملے سامنے آئے، جن میں زیادہ چوٹ اور معذوری کے باوجود رپورٹ میں معمولی چھوٹ زمرہ میں رپورٹنگ کی گئی ہے۔
دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں ہونے والے فسادات کے نئے پہلو سامنے آرہے ہیں۔ دہلی اسمبلی اقلیتی فلاحی کمیٹی کے سامنے تقریباً درجن بھر ایسے معاملے سامنے آئے، جن میں زیادہ چوٹ اور معذوری کے باوجود رپورٹ میں معمولی چھوٹ زمرہ میں رپورٹنگ کی گئی ہے۔


ایف آئی آر کے معاملے میں پولیس کا وضاحت سے انکار

اس کے علاوہ گزشتہ میٹنگ میں پرنسپل سکریٹری ہوم کو فساد سے جڑی تمام 754 ایف آئی آر فراہم کرنے کے لئے کہا تھا۔ تاہم پولیس ان تمام ایف آئی آرکو حساس بتاکر کمیٹی کو فراہم کرنے سے بچ رہی ہے۔ آج میٹنگ میں پرنسپل سکریٹری ہوم نے پولیس کی جانب سے پیش کئے گئےجواز کو کمیٹی کے سامنے رکھا، جس میں 2011 کے ہائی کورٹ کے آرڈرکا حوالہ دے کر ایسی ایف آئی آر کو فراہم نہ کرنے کا جواز تلاش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ میٹنگ میں جو پانچ ایف آئی آر ایک جیسی پائی گئی تھیں، ان کے بارے میں پولیس نے کوئی واضح جواب نہ دیتے ہوئے یہی کہا کہ پٹرولنگ کے دوران پولیس کو وہ مطلوبہ شخص ملے، جن کے خلاف ایف آئی آر کی گئی ہے اور اگر کسی کے خلاف غلط ایف آئی آر ہوئی ہے تو وہ عدالت میں اسے چیلنج کرسکتا ہے۔

گزشتہ میٹنگ میں افسران کے سامنے کچھ ایسے ویڈیو چلائے گئے تھے، جن میں کچھ لوگ فساد کرتے ہوئے صاف دیکھے جاسکتے ہیں۔ کمیٹی نے پولیس سے جانکاری مانگی تھی کہ ان لوگوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔ پولیس کی جانب سے ہوم سکریٹری کے توسط سے کمیٹی کو جواب موصول ہوا ہے کہ کل سات ویڈیو میں سے 3 میں ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے جبکہ باقی ویڈیو کا ابھی تجزیہ کیا جارہا ہے۔ میٹنگ میں چاندنی چوک سے رکن اسمبلی پرہلاد سنگھ ساہنی، سیلم پور سے عبد الرحمن، مصطفی آباد سے حاجی یونس نے شرکت کی جبکہ پرنسپل سیکریٹری ہوم، ہیلتھ سکریٹری اور شمال مشرقی علاقہ کے متعلقہ ایس ڈی ایم اور ڈی ایم کے علاوہ دہلی وقف بورڈ کے افسران  میں سے سیکشن آفیسر حافظ محفوظ محمد، ویلفیئرسیکشن انچارج فیروز، آئی ٹی انچارج محمد عمران اور لیگل اسسٹنٹ احسن جمال بھی میٹنگ میں موجود رہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 07, 2020 11:45 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading