ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

جنازے پر مرے لکھ دینا یارو، محبت کرنے والا جا رہا ہے، راحت اندوری کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا

راحت اندوری کی ولادت یکم جنوری انیس سو پچاس (1950) کو اندور میں ہوئی۔راحت کی تعلیم و تربیت اندور میں ہوئی۔ ایم اے تک کی تعلیم انہوں نے اندور سے حاصل کی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری انہوں نے بھوپال برکت اللہ یونیورسٹی سے حاصل کی۔

  • Share this:
جنازے پر مرے لکھ دینا یارو، محبت کرنے والا جا رہا ہے، راحت اندوری کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا
محبتوں کا تاجدار راحت دنیا کو الوداع کہہ چکا ہے۔

جنازے پر مرے لکھ دینا یارو


محبت کرنے والا جا رہا ہے


نئی دہلی: محبتوں کا تاجدار راحت دنیا کو الوداع کہہ چکا ہے۔ راحت اندوری کی ولادت یکم جنوری انیس سو پچاس (1950) کو اندور میں ہوئی۔راحت کی تعلیم و تربیت اندور میں ہوئی۔ ایم اے تک کی تعلیم انہوں نے اندور سے حاصل کی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری انہوں نے بھوپال برکت اللہ یونیورسٹی سے حاصل کی۔ راحت اندوری کو عام طور پرلوگ ایک شاعر کی حیثیت سے جانتے ہیں، مگر راحت نے اپنی عملی زندگی کا سفر ایک مصور کی حیثت سے کیا۔


راحت اندوری نے ایم ایف حسین کے ساتھ بھی مصوری کی۔ پھر مصوری کے وہی رنگ شاعری کے پیکر میں ڈھل کر ہمارے سامنے آئے۔ راحت اندوری کے شعری مجموعوں میں دھوپ دھوپ، میرے بعد، پانچواں درویش، ناراض کے نام قابل ذکر ہیں۔ راحت اندوری نے 18 سال کی عمر میں شعر کہنا شروع کیا تھا۔ انہوں نے اختر شیرانی کو دل میں بیٹھایا، ساحر کو اپنایا، مجاز سے پیار کیا۔ مخدوم پر اعتبارکیا، فیض سے فیضیاب ہوئے اور کوچہ سخن میں کامیاب ہوئے۔ راحت اندوری کے فن وشخصیت پر بہت سے خاص نمبر بھی نکالے گئے۔ راحت اندوری نے فلموں کے لئے بہت سے کامیاب نغمے لکھے۔ ان کی اہم فلموں میں جانم، سر، ٹکر، رام،غنڈہ راج، پریم شکتی، توکھلاڑی میں اناڑی، ہمالیہ پتر، درار، یارانہ، جنٹل مین، آواز، تمنا، ناجائز، عشق، ناراض، بے قابو، خوددار، قریب، پریم آنگن، ہیرو ہندستانی، خوف، اگر تم نہ آئے، دیوانہ تیرے پیارکا، مشن کشمیر جیسی اہم فلموں کے نام قابل ذکر ہیں۔

راحت اندوری نے وہی لکھا جو انہوں نے محسوس کیا۔ ان کی شاعری سماج کا آئینہ ہے۔ سماج میں اٹھنے والے تعصب کے دھویں سے وہ بہت دلبرداشتہ ہوتے تھے۔ وہ کہتے ہیں:
جن چراغوں سے تعصب کا دھواں اٹھتا ہو
ا ن چراغوں کو بجھا دو تو اجالے ہوں گے
ڈاکٹر راحت اندوری نے اپنی زندگی کا آخری مشاعرہ نیوز 18 اردو کے لئے پڑھا اور ا س مشاعرہ میں جو کلام پیش کیا اس میں وہ شعربھی تھا جس کو سننے سے لگتا تھا کہ جیسے انہیں اپنی زندگی کے اختتام کا اندازہ ہوگیا ہو ۔وہ کہتے ہیں۔
عمر بھر کی نیند پوری ہوچکی ہے
تب کہیں جا کر مرا بستر کھلا
راحت اندوری کے جانے کا غم صرف ہندوستان کے اردو شائقین کا نقصان نہیں ہے بلکہ پوری اردو دنیا کا نقصان ہے۔ راحت اندوری بھلے ہی ہمارے بیچ نہیں ہیں، لیکن ان کی شاعری اور ان کے کارہائے نمایاں ہمیشہ ان کی نمائندگی کرتے رہیں گے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 11, 2020 08:16 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading