راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کےلیڈران جائیں گےکشمیر، جموں وکشمیرانتظامیہ کا ریڈ سگنل

دراصل جموں وکشمیرکے گورنرستیہ پال نے راہل گاندھی کوکشمیرآنے کی دعوت دی تھی، جس کے بعد وہ ہفتہ کے روز سری نگرجانے والے ہیں۔

Aug 24, 2019 12:09 AM IST | Updated on: Aug 24, 2019 12:09 AM IST
راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کےلیڈران جائیں گےکشمیر، جموں وکشمیرانتظامیہ کا ریڈ سگنل

راہل گاندھی سمیت اپوزیشن لیڈران کشمیرجانےکی تیاری میں۔

کانگریس کےسابق صدرراہل گاندھی اورکئی دیگراپوزیشن جماعتوں کے سینئرلیڈرہفتہ کو کشمیرکا دورہ کریں گے اوردفعہ 370 کے اہم التزام کوہٹائے جانے کے بعد وہاں کے حالات کا جائزہ لیں گے۔ ذرائع کے مطابق گاندھی کےعلاوہ کانگریس کے سینئرلیڈر غلام نبی آزاد اورآنند شرما بھی جارہے ہیں۔ ان لیڈروں کا دوپہرکے وقت سری نگرپہنچنے کا پروگرام ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگرسری نگرمیں داخل ہونے کی اجازت ملی توراہل گاندھی سمیت سبھی لیڈروہاں کے حالات کا جائزہ لیں گے اورمقامی لیڈروں اورباشندوں سے ملاقات کریں گے۔ اپوزیشن لیڈروں کے اس وفد میں سی پی ایم جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری، سی پی آئی جنرل سکریٹری ڈی راجہ، آرجے ڈی کے منوج جھا، ڈی ایم کے کے تروچا شیوا، ترنمول کانگریس کے دنیش ترویدی اورکچھ دیگرجماعتوں کے لیڈرشامل ہوں گے۔

Loading...

کشمیرجانے والے لیڈروں کی فہرست۔ کشمیرجانے والے لیڈروں کی فہرست۔

ستیہ پال ملک نے راہل گاندھی کو دی تھی دعوت

دراصل جموں وکشمیرکے گورنرستیہ پال ملک نے راہل گاندھی کو کشمیرآنے کی دعوت دی تھی، جس کے بعد راہل گاندھی ہفتہ کوسری نگرجانے والے ہیں۔ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں نے جموں وکشمیرمیں حراست میں لئے گئے لیڈروں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعرات کو یہاں احتجاج  بھی کیا تھا۔ کانگریس کے سینئرلیڈر غلام نبی آزاد، سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری، سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ، سماجوادی پارٹی کے لیڈررام گوپال یادو، شرد یادو، راشٹریہ جنتادل کے لیڈرمنوج جھا اورترنمول کانگریس کے دنیش ترویدی اس احتجاج میں شامل ہوئے تھے۔

Ani

انتظامیہ نے کہا- تعاون کریں لیڈران

جموں وکشمیرحکومت کے محکمہ اطلاعات ونشریات نے کشمیرکا دورہ کرنے جارہے لیڈروں سے اپیل کرتے ہوئے تعاون کرنے کے لئے کہا ہے اورسری نگرکا دورہ نہ کرنے کے لئے کہا۔ کیونکہ وہ دوسرے لوگوں کوپریشانی میں ڈال رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کہا گیا کہ وہ ان کی پابندیوں کی بھی خلاف ورزی کررہے ہوں گے، جوب اب بھی کئی حلقوں میں نافذ ہے۔

وادی میں موبائل اورانٹرنیٹ بند

واضح رہےکہ حال ہی میں حکومت نے جموں وکشمیرنے جموں وکشمیرسے دفعہ 370 کے کئی التزام ہٹانےاورریاست کے زیرانتظام دو خطوں میں تقسیم کئے جانے کا قدم اٹھایا ہے۔ اس کے پیش نظرلا اینڈ آرڈربنائے رکھنےکےلئے ریاست کے کئی علاقوں میں احتیاطاً زبردست سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی اورموبائل اورانٹرنیٹ خدمات معطل کردی گئیں۔ اس کےعلاوہ سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ، عمرعبداللہ، محبوبہ مفتی سمیت کئی لیڈروں کو حراست میں لیا گیا اورنظربند کیا گیا۔

Loading...