ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

وزیر اعظم مودی نے ماہی گیروں سے متعلق بنائی تھی الگ وزارت، راہل گاندھی کو گری راج کا جواب

Farm Laws: تین زرعی قوانین کو واپس لئے جانے اور ایم ایس پی کے لئے قانونی گارنٹی دینے کے مطالبہ کے ساتھ ہزاروں کسان کئی دنوں سے دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔

  • Share this:
وزیر اعظم مودی نے ماہی گیروں سے متعلق بنائی تھی الگ وزارت، راہل گاندھی کو گری راج کا جواب
وزیر اعظم مودی نے ماہی گیروں سے متعلق بنائی تھی الگ وزارت، راہل گاندھی کو گری راج کو جواب

نئی دہلی: مرکزی وزیر گری راج سنگھ (Giriraj Singh) نے زرعی قوانین (Farm Laws) کو لے کر کسانوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بدھ کو راہل گاندھی (Rahul Gandhi) پر نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا، ’میں یہ دیکھ کر بے حد د’کھی ہوں کہ راہل گاندھی اٹلی کے باہر نہیں آسکتے۔ وہ پورے ملک کے کسانوں کو بہکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ ہمارے ملک کو پوری دنیا میں بدنام کر رہے ہیں’۔ اس کے ساتھ ہی گری راج سنگھ نے راہل گاندھی کے ذریعہ مرکز پر لگائے گئے ان الزامات کا بھی جواب دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ گزشتہ تقریباً پانچ برسوں سے وزیر اعظم نریندر مودی نے پڈوچیری حکومت کو کام نہیں کرنے دیا ہے اور آپ کے خوابوں اور خواہشات کو چھین لیا ہے۔


مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے زرعی قوانین کو لے کر کسانوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بدھ کو راہل گاندھی پر نشانہ سادھا۔
مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے زرعی قوانین کو لے کر کسانوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بدھ کو راہل گاندھی پر نشانہ سادھا۔


مرکزی وزیر نے کہا، ’میں یہ جان کر حیران ہوں کہ پارٹی کا ایک لیڈر اس بات سے ناواقف ہے کہ سال 2019 میں وزیر اعظم نے ماہی گیری، جانور پالنا اور ڈیری کو لے کر ایک الگ وزارت کی تشکیل کی گئی تھی اور میں نے اس کے وزیر کے طور پر حلف لیا تھا۔ پڈوچیری میں کام چل رہا ہے’۔ اس سے متعلق وزیر مملکت انوراگ ٹھاکر نے بھی راہل گاندھی کو جواب دیا ہے۔




انوراگ ٹھاکر نے لکھا کہ ’راہل گاندھی، ماہی گیری کی اقتصادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے سال 2019 میں کسان کریڈٹ کارڈ دیا گیا تھا۔ آتم نربھر پیکیج 2020 کے تحت مچھلی پالن کو فروغ دینے کے لئے وزیر اعظم نے ماہی گیری اسکیم لانچ کی گئی تھی۔ ماہی گیروں کو گمراہ کرنے کے بجائے اس کے بارے میں پڑھنا کیسا رہے گا۔

اس سے متعلق مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے اطالوی زبان میں ٹوئٹ کرکے لکھا کہ- ’وزیر صرف ایک ہی بات جانتے ہیں۔ جھوٹ، خوف اور غلط اطلاع پھیلانا‘۔

 



وہیں ایک صارف نے لکھا ہے کہ اگر راہل گاندھی چھٹیاں بتانے کے بجائے کچھ وقت ہندوستان میں گزاریں اور الیکشن کے وقت صرف ہندوستان نہ آئے تو وہ ایسی بڑی غلطی نہیں کریں گے۔

اس کے علاوہ بی جے پی تمل ناڈو کے ترجمان ایس جی سوریہ نے لکھا کہ ’پڈوچیری میں ایک خاتون نے راہل گاندھی سے شکایت کی کہ وزیر اعلیٰ اور نارائن سوامی نے چکروات کے دوران کبھی دورہ نہیں کیا نہ ہی مدد کی، لیکن وزیر اعلیٰ اسے راہل گاندھی کو ترجمہ کرکے بتا رہے ہیں کہ خاتون سیلاب میں ان کے ذریعہ کئے گئے کاموں سے خوش ہے۔ نہیں معلوم تھا کہ راہل گاندھی کو اتنی آسانی سے دھوکہ دیا جاسکتا ہے‘۔

واضح رہے کہ تین زرعی قوانین کو واپس لئے جانے اور فصلوں پر کم از کم سپورٹ قیمت (ایم ایس پی) کے لئے قانونی گارنٹی دینے کے مطالبہ کے ساتھ پنجاب، ہریانہ اور ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہزاروں کسان دو ماہ سے زیادہ وقت سے قومی دارالحکومت دہلی کی مختلف سرحدوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔

کیا ہے معاملہ

زرعی میدان میں سب سے بڑے اصلاحات کے طور پر حکومت نے ستمبر میں تین زرعی قوانین کو نافذ کیا تھا۔ حکومت نے کہا تھا کہ ان قوانین کے بعد بچولیئے کا کردار ختم ہوجائے گا اور کسانوں کو ملک میں کہیں پر بھی اپنے پروڈکٹ کو بیچنے کی اجازت ہوگی۔ وہیں، کسان تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے مطالبہ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ احتجاج کر رہے کسانوں کا دعویٰ ہے کہ یہ قوانین صنعتی دنیا کو فائدہ پہنچانے کے لئے لائے گئے ہیں اور ان سے منڈی اور کم از کم معمولی قیمت (ایم ایس پی) کا سسٹم ختم ہوجائے گا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 17, 2021 08:55 PM IST