راہل گاندھی نےکہا - کشمیرپروزارت خارجہ کا بیان کافی نہیں، عوام کوجواب دیں وزیراعظم مودی

راہل گاندھی نےاپنےٹوئٹ میں لکھا 'ایک کمزوروزارت خارجہ کی تردید ہی کافی نہیں ہے۔ وزیراعظم کوقوم کوبتانا چاہئےکہ ٹرمپ اوران کے درمیان میٹنگ میں کیا بات ہوئی تھی'۔

Jul 23, 2019 04:15 PM IST | Updated on: Jul 23, 2019 04:26 PM IST
راہل گاندھی نےکہا - کشمیرپروزارت خارجہ کا بیان کافی نہیں، عوام کوجواب دیں وزیراعظم مودی

راہل گاندھی: فائل فوٹو

کشمیر مسئلے کولے کرامریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دعوے پرمنگل کو پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہوا۔ اس درمیان کانگریس صدرکے عہدے سے استعفیٰ دے چکے راہل گاندھی نے امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کے دعوے کولے کروزیراعظم نریندرمودی پرحملہ بولا ہے۔

راہل گاندھی نے ٹوئٹ کیا 'اگرٹرمپ کا دعویٰ صحیح ہے، تو وزیراعظم نریندرمودی نے ہندوستان کے مفاد اور1972 کے شملہ معاہدے کو دھوکہ دیا ہے۔ اس معاملے پروزارت خارجہ کا بیان کا فی نہیں ہے۔ اس پروزیراعظم نریندرمودی کو جواب دینا چاہئے'۔

Loading...

راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا 'ایک کمزوروزارت خارجہ کی تردید ہی کافی نہیں ہے۔ وزیراعظم کوقوم کوبتانا چاہئے کہ ٹرمپ اوران کے درمیان میٹنگ میں کیا ہوا تھا'۔ بتادیں کہ غلط بیان دینے کے لئے سرخیوں میں رہنے والے امریکی صدرٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ میڈیا سے بات چیت کی۔ اس دوران کشمیرمسئلے پرکئے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم مودی نے ان سے کشمیرموضوع پرثالثی کرنےکےلئےکہا تھا۔

rahul-gandhii

ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا 'میں دو ہفتے پہلے وزیراعظم مودی کے ساتھ تھا اورہم نے اس موضوع (کشمیر) کے بارے میں بات کی اورانہوں نے حقیقت میں کہا 'کیا آپ ثالثی یا ثالث بننا چاہیں گے؟ میں نے کہا کہ 'کہاں'؟ (مودی نے کہا) 'کشمیر'۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ مدد کے لئے تیارہیں۔ اگردونوں ممالک اس کے لئے کہیں۔ واضح رہے کہ ہندوستان، پاکستان کے دہشت گردوں کے ذریعہ جنوری 2016 میں پٹھان کوٹ میں فضائیہ کے ٹھکانے پرحملے کے بعد سے پاکستان سے بات چیت بند ہے۔

وزارت خارجہ نے بیان کو کیا خارج

وہیں وزارت خارجہ نے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے جموں وکشمیر سے متعلق بیان پروضاحت دی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمارنے ٹوئٹ کیا 'کشمیرمسئلے پر ہندوستان کو تیسرے فریق کی ثالثی منظورنہیں ہے۔ ہندوستان نے واضح طورپرکہا ہے کہ پاکستان سے صرف دوطرفہ بات چیت ہوگی'۔ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ وہائٹ ہاوس میں ملاقات کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے کشمیرمسئلے میں ثالثی کا آفردیا۔ عمران خان نے کشمیرکا موضوع اٹھایا تو ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ثالثی کرنے کے لئے تیارہے، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم نریندرمودی نے بھی انہیں ثالثی کرنے کوکہا تھا۔

امریکہ صدرڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی۔ امریکہ صدرڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی۔

وہائٹ ہاوس کوبھی دینا پڑا استعفیٰ

ڈونالڈ ٹرمپ کےاس متنازعہ بیان کے بعد وہائٹ ہاوس کے ترجمان سے سوال کیا گیا کہ کیا کشمیرکولےکرامریکہ کی پالیسی بدل گئی ہے۔ اس پرترجمان نے کہا 'کشمیردونوں فریق کے درمیان دو طرفہ مدعا ہے، ٹرمپ انتظامیہ اس کا استقبال کرتی ہے کہ دونوں ممالک بیٹھ کربات کریں اورامریکہ تعاون کے لئے ہمیشہ تیارہے'۔

Loading...