உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Raid on Piyush Jain: جی ایس ٹی انٹلیجنس نے کہا، 52 کروڑ کا ٹیکس جمع کرنے کی خبریں بے بنیاد، جانچ جاری

    جی ایس ٹی انٹیلی جنس نے کہا کہ فی الحال ٹیکس کی رقم ابھی طے نہیں ہے، تحقیقات جاری ہیں۔

    جی ایس ٹی انٹیلی جنس نے کہا کہ فی الحال ٹیکس کی رقم ابھی طے نہیں ہے، تحقیقات جاری ہیں۔

    جی ایس ٹی انٹلیجنس کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹیں بے بنیاد اور محض قیاس ہیں، جس کے ذریعے پیشہ ور طریقے سے چل رہی جانچ کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نے واضح کیا ہے کہ پیوش جین کے دو احاطوں سے اب تک 197.47 کروڑ روپے کیش اور 23 کلو گرام سونا اور مہنے سامان برآمد کیے گئے ہیں۔

    • Share this:
      نوئیڈا: عطر کے تاجر پیوش جین کے معاملے میں جی ایس ٹی انٹلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل نے اُن خبروں کو غلط اور گمراہ کن بتایا ہے، جن م یں کہا جارہا ہے کہ ڈی ڈی جی آئی نے برآمد کیش کو تعمیری یونٹ کے ٹرن اوور کے طور پر ماننے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی بنیاد پر وہ آگے کی کارروائی کرے گی۔ کچھ پریس رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیوش جین نے اپنی دین داری قبول کرنے کے بعد ڈی جی جی آئی کی اجازت سے بقایہ ٹیکس کے طور پر 52 کروڑ روپے جمع کیے ہیں۔ اس طرح محکمہ پیوش جین کے بیان سے متفق ہوگیا ہے اور اُس کے مطابق ٹیکس کو حتمی روپ دے دیا گیا ہے۔

      جی ایس ٹی انٹلیجنس کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹیں بے بنیاد اور محض قیاس ہیں، جس کے ذریعے پیشہ ور طریقے سے چل رہی جانچ کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نے واضح کیا ہے کہ پیوش جین کے دو احاطوں سے اب تک 197.47 کروڑ روپے کیش اور 23 کلو گرام سونا اور مہنے سامان برآمد کیے گئے ہیں۔ برآمد کی گئی رقم اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی کسٹڈی میں کیس جائیداد کے طور پر رکھی گئی ہے۔ ابھی تک میسرس اوڈوکیم انڈسٹریز کی جانب سے ضبط کی گئی اس رقم کے سر پر کوئی ٹیکس جمع نہیں کیا گیا ہے اور ان کی ٹیکس واجبات کا تعین ہونا باقی ہے۔

      جی ایس ٹی انٹلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ پیوش جین نے جو ڈاکیومنٹ دئیے ہیں وہ جانچ کا موضوع ہے۔ فی الحال، تلاشی کے دوران مختلف احاطوں سے ضبط کیے گئے ثبوتوں کے تخمینہ اور آگے کی جانچ نتائج کی بنیاد پر ہی کوئی کارروائی کی جائے گی۔ پیوش جین کے جرم قبول کرنے اور ریکارڈ پر دستیاب ثبوت کی بنیاد پر سی جی ایس ٹی ایکٹ کی دفعہ 132 کے تحت اُنہیں 26 دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا اور 27 دسمبر کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ فی الحال، عدالت نے اُنہیں 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: