ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بنگلورو میں بارش کے درمیان بھارت بند، سیکورٹی کے سخت انتظامات کے دوران عام زندگی متاثر

مرکزی حکومت کے خلاف کسانوں کی جانب سے منائے گئے بھارت بند کا اثرکرناٹک میں نمایاں طور پر دیکھنے کو ملا۔ دارالحکومت بنگلورو میں کسانوں نے زبردست احتجاجی ریلی نکالی۔ بند سے عام زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہوئی دکھائی دی۔ صبح سویرے سے ہی شہر کے مختلف مقامات میں کسانوں کے احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے۔

  • Share this:
بنگلورو میں بارش کے درمیان بھارت بند، سیکورٹی کے سخت انتظامات کے دوران عام زندگی متاثر
بنگلورو میں بارش کے درمیان بھارت بند، عام زندگی متاثر

بنگلورو: مرکزی حکومت کے خلاف کسانوں کی جانب سے منائے گئے بھارت بند کا اثر کرناٹک میں نمایاں طور پر دیکھنے کو ملا۔ دارالحکومت بنگلورو میں کسانوں نے زبردست احتجاجی ریلی نکالی۔ بند سے عام زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہوئی دکھائی دی۔ صبح سویرے سے ہی شہر کے مختلف مقامات میں کسانوں کے احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے۔ مودی حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے کسانوں نے اپنے غم اور غصہ کا اظہار کیا۔ بنگلورو میں وقت وقت پر بارش برستی رہی، لیکن بارش اور ٹھنڈی ہواؤں کی پرواہ کئے بغیر کسان سڑکوں پر اتر آئے اور مرکزی حکومت سے انصاف کا  مطالبہ کیا۔ کرناٹک رعیت سنگھ اور دیگر کسان تنظیموں نے مل کر بنگلورو کے ٹاؤن ہال سے فریڈم پارک تک بڑی احتجاجی ریلی نکالی۔ اس ریلی کی وجہ سے بنگلورو کا مرکزی سٹی بس اسٹانڈ "میجسٹک"، سرکاری بس اسٹانڈ اور مرکزی ریلوے اسٹیشن کو جانے والی تمام بڑی سڑکیں کئی گھنٹوں تک بند رہیں۔


مرکزی حکومت کے خلاف کسانوں کی جانب سے منائے گئے بھارت بند کا اثر کرناٹک میں نمایاں طور پر دیکھنے کو ملا۔ دارالحکومت بنگلورو میں کسانوں نے زبردست احتجاجی ریلی نکالی۔
مرکزی حکومت کے خلاف کسانوں کی جانب سے منائے گئے بھارت بند کا اثر کرناٹک میں نمایاں طور پر دیکھنے کو ملا۔ دارالحکومت بنگلورو میں کسانوں نے زبردست احتجاجی ریلی نکالی۔


ریاست میں بی جے پی حکومت کے رہنے کے سبب بند کامیاب ہوگا یا نہیں ہوگا، اس پر ہرکسی کی نگاہیں جمی ہوئی تھیں۔ صرف بنگلورو میں 15 ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ سرکاری بس سرویس اور دیگر خدمات کو بحال رکھنے کی حکومت نے ہدایت دی تھی، لیکن ان تمام رکاوٹوں اور پابندیوں کے باوجود کسانوں کا یہ احتجاج بڑی حد تک کامیاب رہا۔ کسانوں کے اس احتجاج کی کئی سماجی تنظیموں، کنڑ تنظیموں، دلت تنظیمیں، ترقی پسند تنظیموں، بائیں بازو کی جماعتوں مزدور یونین اور مسلم تنظیموں نے تائید کی تھی۔ اس احتجاج میں ریاست کی اپوزیشن پارٹیوں کانگریس اور جے ڈی ایس نے بھی حصہ لیا۔ ان پارٹیوں نے ودھان سودھا کے احاطے میں الگ الگ احتجاجی مظاہرے منعقد کئے اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں کو کسان مخالف، مزدور مخالف قرار دیا۔


بند سے عام زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہوئی دکھائی دی۔ اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے تھے۔
بند سے عام زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہوئی دکھائی دی۔ اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے تھے۔


پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیو کمار اور کانگریس کے دیگر لیڈروں نے کسانوں کی احتجاجی ریلی میں بھی حصہ لیا اور یہ پیغام دیا کہ کانگریس پارٹی کسانوں کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے۔ کسانوں کے احتجاج میں حصہ لینے پر بی جے پی نے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بی جے پی لیڈر اور ریاستی وزیر ایشورپا نے کہا کہ کانگریس اپنے آپ کو زندہ ثابت کرنےکیلئے احتجاج میں حصہ لے رہی ہے۔ ضمنی انتخابات میں عوام نے کانگریس کو مسترد کیا ہے۔ کسانوں کے اس احتجاج کی جمعیۃ علماء ہند، جماعت اسلامی ہند، آل انڈیا ملی کونسل، جماعت اہل سنت کرناٹک، جمعیت اہل حدیث سمیت 10 سے زائد مسلم تنظیموں نے تائید کی تھی۔ ملی تنظیموں کی اپیل پر شہر کے مسلم اکثریتی علاقوں میں رضاکارانہ طور پر بازار اور دکانیں بند رہیں۔ بھارت بند کے موقع پر کسانوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ کسان لیڈروں نے کہا کہ زرعی قوانین میں کی گئی ترمیمات کو جب تک واپس نہیں لیا جاتا تب تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ 9 دسمبر کو کسانوں نے بنگلورو میں کرناٹک کی اسمبلی ودھان سودھا کا گھیراؤ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 08, 2020 08:26 PM IST