உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jodhpur Clashes & Stone Pelting:راجستھان کےجودھ پورپتھراؤ کے بعدانٹرنیٹ بند،12افرادزخمی

    حالات خراب ہونے کی اطلاع پر جلوری گیٹ چوک کی تمام سڑکیں بند کر دی گئیں۔

    حالات خراب ہونے کی اطلاع پر جلوری گیٹ چوک کی تمام سڑکیں بند کر دی گئیں۔

    Rajasthan Stone Pelting:سی ایم اشوک گہلوت کے آبائی شہر جودھ پور(Jodhpur Clashes on Eid) میں دو فریقوں کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔ پیر کی آدھی رات کو جھنڈے لگانے کے معاملے پر بحث و تکرار ہوگئی اور بعد دونوں طرف سے پتھراؤ کیا گیا۔ اس میں ایک درجن کے قریب لوگ زخمی ہو گئے ہیں ۔ بعد میں موقع پر پہنچی پولیس اور آر اے سی(Rapid Action Force) نے مورچہ سنبھال لیا اور لاٹھی چارج کرکے ہجوم کو منشتر کردیا۔

    • Share this:
      Jodhpur Stone Pelting:عید کے موقع پر سی ایم اشوک گہلوت کے آبائی شہر جودھ پور(Jodhpur Clashes on Eid) میں دو فریقوں کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔ پیرکی آدھی رات کو جھنڈے لگانے کے معاملے پر بحث و تکرار ہوگئی اور بعد دونوں طرف سے پتھراؤ کیا گیا۔ اس میں ایک درجن کے قریب لوگ زخمی ہوگئے ہیں ۔ بعد میں موقع پر پہنچی پولیس اور آر اے سی(Rapid Action Force) نے مورچہ سنبھال لیا اور لاٹھی چارج کرکے ہجوم کو منشتر کردیا۔۔ اس دوران شہر کے وسط میں گذشتہ رات میں ایک سے تین بجے تک پتھراؤ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ کو آدھی رات کو ہی پورے جودھ پور ضلع میں اگلے احکامات تک موبائل انٹرنیٹ بند کرنے کے احکامات جاری کرنے پڑے۔ موقع پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

      جانکاری کے مطابق جودھ پور شہر کے دل جلوری گیٹ پر جھنڈے لگانے کو لے کر ہنگامہ شروع ہو گیا۔ اس معاملے پر دونوں برادریوں کے لوگ آمنے سامنے آگئے۔ بعد میں یہ تنازعہ بڑھ گیا۔ جھگڑے کی اطلاع پر وہاں دونوں برادریوں کے لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ جس کے بعد حالات اتنے ابتر ہوگئے ہیں ک بات ہ مار پیٹ اور پتھراؤ تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد دونوں طرف سے پتھروں کی بارش شروع ہو گئی۔

      حالات خراب ہونے کی اطلاع پر جلوری گیٹ چوک کی تمام سڑکیں بند کر دی گئیں۔ پولیس انتظامیہ کے اعلیٰ افسران، تقریباً دس تھانوں کی پولیس، اضافی جبتہ اور آر اے سی کے اہلکار وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے دونوں فریقین کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن معاملہ بگڑتا چلا گیا۔ اس پر پولیس انتظامیہ نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے ہلکی طاقت کا استعمال کیا اور حالات کو سنبھالا۔ لیکن تب تک چار صحافیوں اور کیمرہ مینوں سمیت دونوں اطراف کے ایک درجن افراد زخمی ہو چکے تھے۔

      جودھ پور شہر کی سب سے بڑی مسجد جلوری گیٹ پر ہے جو کہ ہنگامہ آرائی میں تباہ ہو گئی ۔ یہ علاقہ بادی عیدگاہ کہلاتا ہے۔ یہاں عید کے موقع پر بڑے پیمانے پر اجتماعی نمازیں ادا کی جاتی ہیں۔ کورونا کی وجہ سے 2 سال سے اجتماعی نماز نہیں ہو سکی۔ چنانچہ اس بار اس کے لیے وسیع پیمانے پر تیاریاں کی گئیں۔ اس کے لیے بیریکیڈنگ وغیرہ کی گئی۔ لیکن یہ رکاوٹ آدھی رات کے ہنگامے میں ٹوٹ گئی۔

      ڈویژنل کمشنر ہمانشو گپتا نے پورے جودھ پور ضلع میں آدھی رات کو اگلے احکامات تک انٹرنیٹ بند رکھنے کے احکامات جاری کر دیے، حالات خراب ہونے کے بعد متاثرہ علاقے میں جگہ جگہ پولیس اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا ۔ دارالعلوم اسحاقیہ کے مفتی شیر محمد نے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ فی الحال، حالات کشیدہ مگر قابو میں ہے۔ پولیس انتظامیہ کے افسران پورے علاقے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: