உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Rajasthan Violence:آٹھ سالوں میں 3300سے زیادہ پرتشدد واقعات،81فرقہ وارانہ کیس، جانیے اس سال کیا کیا ہوا؟

    راجستھان میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی تفصیل۔ جودھپور تشدد کے بعد بھی لگایا گیا تھا کرفیو۔

    راجستھان میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی تفصیل۔ جودھپور تشدد کے بعد بھی لگایا گیا تھا کرفیو۔

    Rajasthan Violence: نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے مطابق ریاست میں گزشتہ آٹھ سالوں (2013-2020) کے دوران 3,342 فسادات ہوئے۔ اس دوران 2013 میں سب سے زیادہ 542 فسادات ہوئے۔ 2014 میں 536 اور 2015 میں 424 فسادات ہوئے۔

    • Share this:
      Rajasthan Violence:راجستھان کے ادے پور میں دن دہاڑے قتل کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی کی صورتحال ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے انٹرنیٹ سروس 24 گھنٹے کے لیے معطل کر دی ہے۔ ریاست میں گزشتہ تین ماہ کے اندر یہ چوتھا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے 2 اپریل کو کرولی میں تشدد ہوا تھا۔ جودھپور میں 2 مئی کو تشدد ہوا تھا۔ وہیں 10 مئی کو بھیلواڑہ میں ایک 20 سالہ نوجوان کے قتل کے بعد بھی فرقہ وارانہ کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔
      گزشتہ تین سال میں فرقہ وارانہ تشدد کے پانچ بڑے واقعات

      1. ٹونک میں جلوس پر سنگباری کے بعد ہوا تھا تشدد
      معاملہ 08 اکتوبر 2019 کا ہے۔ ضلع ٹونک میں دسہرہ کا جلوس نکالا جا رہا تھا۔ مالپورہ قصبہ میں کچھ شرپسندوں نے جلوس میں شامل لوگوں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ اس کے بعد تشدد پھوٹ پڑا۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے انتظامیہ نے انٹرنیٹ سروس بند کر دی اور کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ٹونک اور جے پور سے اضافی پولیس فورس طلب کی گئی اور شہر میں تعینات کیا گیا۔

      2.باراں میں دو نوجوانوں کے قتل کے بعد ہوا تھا تشدد
      واقعہ 11 اپریل 2021 کا ہے۔ ضلع باران میں دو نوجوانوں کو قتل کر دیا گیا۔ اس کا الزام دوسری برادری کے لوگوں پر لگایا گیا۔ اس کے بعد تشدد پھوٹ پڑا۔ صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس نے انٹرنیٹ بند کر دیا اور کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ پرتشدد ہجوم پر قابو پانے کے لیے پولیس کو آنسو گیس کے شیل کا استعمال کرنا پڑا۔

      3. نوجوانوں کے تنازعہ میں جل اٹھا جھالواڑہ
      معاملہ 19 جولائی 2021 کا ہے۔ جھالواڑہ میں دو برادریوں کے نوجوانوں میں جھگڑا ہوگیا۔ کچھ دیر بعد یہاں تشدد پھوٹ پڑا۔ گھروں، دکانوں اور موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو قابو کیا۔ افواہوں کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے کچھ علاقوں میں تین دن کے لیے انٹرنیٹ سروس معطل کر دی۔ اس دوران پولیس نے 200 سے زائد لوگوں کے خلاف تشدد بھڑکانے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا مقدمہ درج کیا تھا۔

      4. کرولی میں بائیک ریلی پر سنگباری، مشتعل بھیڑ نے لگادی گھروں اور دکانوں کو آگ
      اسی سال دو اپریل کو کرولی میں ہندو نئے سال پر نوجوانوں نے بائیک ریلی نکالی۔ ریلی پر سنگباری کے بعد تشدد بھڑک اٹھا۔ دنگائیوں نے 35 سے زیادہ دکانوں، مکانوں اور بائیکوں کو آگ کے حوالے کردیا۔ حالات قابو میں کرنے کے لئے انتظامیہ نے ضلع میں کرفیو لگایا اور پھر انٹرنیٹ سروس بھی بند کردی۔ تشددمیں پولیس اہلکاروں سمیت 43 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔ اس تشدد کے بعد لگے کرفیو کی وجہ سے شہر کے لوگ قریب 15 دنوں تک گھروں میں قید رہے تھے۔

      5. جودھپور میں مذہبی پرچم کو لے کردو طبقے آئے آمنے سامنے
      2 مئی 2022 کو پرشورام جینتی کے موقع پر جودھپور میں ایک ریلی نکالی گئی۔ اس دوران جلوری گیٹ چوراہے پر جھنڈے لگائے گئے۔ رات گئے عید کے موقع پر سوسائٹی کے لوگوں نے اس چوراہے پر جھنڈے لگانے کی کوشش کی۔ اس دوران دونوں فریقین کے درمیان لڑائی ہو گئی۔ دونوں برادریوں کے لوگ آمنے سامنے آگئے اور پتھراؤ شروع ہوگیا۔ پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے داغ کر صورتحال پر قابو پالیا۔ پتھراؤ میں ڈی سی پی، ایس ایچ او سمیت چار پولیس اہلکار اور میڈیا کے کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے۔ تین روز تک پورے شہر میں کرفیو نافذ رہا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Udaipur: ایک سوشل میڈیا پوسٹ، اس کےبعد دھمکیاں اورپھر قتل! ادےپورمیں کیااورکیسےہوا؟

      یہ بھی پڑھیں:
      Udaipur: پورے راجستھان میں ایک مہینے کیلئے دفعہ 144 نافذ، 24 گھنٹوں کیلئے انٹرنیٹ بند

      گزشتہ 8 سال میں ریاست میں ہوئے 3300 سے زیادہ فساد
      نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے مطابق ریاست میں گزشتہ آٹھ سالوں (2013-2020) کے دوران 3,342 فسادات ہوئے۔ اس دوران 2013 میں سب سے زیادہ 542 فسادات ہوئے۔ 2014 میں 536 اور 2015 میں 424 فسادات ہوئے۔ پچھلے آٹھ سالوں میں سب سے کم 269 فسادات 2016 میں ہوئے۔ 2021 کے فرقہ وارانہ فسادات کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ ان آٹھ سالوں میں 3,547 افراد فسادات کا شکار ہو چکے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: