اجودھیا معاملہ: مسلم فریق نے ہندو فریق کےدعوی پر سوال اٹھائے، کہی یہ بڑی بات

واضح رہے کہ رام جنم بھومی۔ بابری مسجد متنازعہ زمین معاملے میں ثالثی کا عمل ناکام ہونے کے بعد سپریم کورٹ 6 اگست سے سارے معاملے کی روازنہ کی بنیاد پر سماعت کررہی ہے۔

Oct 14, 2019 08:31 PM IST | Updated on: Oct 14, 2019 08:31 PM IST
اجودھیا معاملہ: مسلم فریق نے ہندو فریق کےدعوی پر سوال اٹھائے، کہی یہ بڑی بات

سپریم کورٹ: فائل فوٹو

نئی دہلی: مسلم فریق نے سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے سامنے پیر کو دعوی کیا کہ ہندوفریق یہ ثابت کرنے میں نااہل ہے کہ اہم گنبد ہی بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے۔

مسلم فریق کے وکیل ڈاکٹرراجیو دھون نے سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کے سامنے یہ بات اجودھیا کی متنازعہ زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرنےکے الہ آباد ہائی کورٹ کے سال 2010 کے فیصلے کے خلاف عرضی پر سماعت کے دوران کہی۔

واضح رہے کہ رام جنم بھومی۔ بابری مسجد متنازعہ زمین معاملے میں ثالثی کا عمل ناکام ہونے کے بعد سپریم کورٹ 6 اگست سے سارے معاملے کی روازنہ کی بنیاد پر سماعت کر رہی ہے۔ ڈاکٹر دھون نے کہا کہ ’’ان کی مہم اس بنیاد پر ہے کہ ہندو فریق نے سال 1989 سے قبول کیا تھا کہ انہیں پوجا کرنے کا صرف روایتی حق ہے۔ نیاس من گھڑت ہے اور یہ سماجی اورسیاسی لوگوں کے ذریعہ تیار کیا گیا ہے‘‘۔

Loading...

Loading...