உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    AG Perarivalan Released: رہا ہوا راجیو گاندھی کے قتل کا مجرم پیراریولن، کہا : ابھی باہر آیا ہوں، سانس لینی ہے...

    AG Perarivalan Released: رہا ہوا راجیو گاندھی کے قتل کا مجرم پیراریولن، کہا : ابھی باہر آیا ہوں، سانس لینی ہے... ۔ فائل فوٹو ۔

    AG Perarivalan Released: رہا ہوا راجیو گاندھی کے قتل کا مجرم پیراریولن، کہا : ابھی باہر آیا ہوں، سانس لینی ہے... ۔ فائل فوٹو ۔

    AG Perarivalan Released: راجیو گاندھی قتل کیس میں قصوروار قرار دیے گئے اے جی پیراریولن نے سپریم کورٹ کے رہائی کے حکم کے چند گھنٹوں کے بعد اپنا پہلا رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ اس معاملہ میں انہیں چنئی کی ایک خصوصی عدالت کے ذریعہ سزائے موت سنائی گئی تھی ، جس کو بعد میں عمر قید میں تبدیل کردیا گیا تھا ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : راجیو گاندھی قتل کیس میں قصوروار قرار دیے گئے اے جی پیراریولن نے سپریم کورٹ کے رہائی کے حکم کے چند گھنٹوں کے بعد اپنا پہلا رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ اس معاملہ میں انہیں چنئی کی ایک خصوصی عدالت کے ذریعہ سزائے موت سنائی گئی تھی ، جس کو بعد میں عمر قید میں تبدیل کردیا گیا تھا ۔ رہا ہونے کے فورا بعد پیرریولن نے اپنی ماں اور رشتہ داروں سے ملاقات ۔ اس مقع پر میڈیا بھی موجود رہا ۔ میڈیا سے بات چیت میں پیراریولن نے کہا کہ میرا یقین ہے کہ موت کی سزا کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ عدالت عظمی کے چیف جسٹسوں سمیت کئی ججوں نے ایسا کہا ہے اور کئی ایسی مثالیں ہیں، ہر کوئی انسان ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل نے اپنے عہدہ سے دیا استعفی، ذاتی وجوہات کا دیا حوالہ


      پیراریولن نے کہا کہ میں ابھی باہر آیا ہوں، قانونی لڑائی کو 31 سال ہوچکے ہیں ، مجھے تھوڑی سانس لینی ہے ، مجھے کچھ وقت دیں ۔ یہ بات انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہی ۔ میڈیا نے ان سے پوچھا تھا کہ رہا ہونے کے بعد انہیں کیسا لگ رہا ہے اور اب ان کا کیا منصوبہ ہے ۔ انہوں نے عدالت کے حکم پر خوشی کا بھی اظہار کیا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: وزرا کے گروپ نے آن لائن گیمنگ، کسینو اور ریس کورس پر 28 فیصد GST کی سفارش کی


      قابل ذکر ہے کہ سال 1991 میں تمل ناڈو کے سری پیرمبدور،میں ایک انتخابی اجلاس کے دوران ایک خودکش دھماکے میں راجیو گاندھی کو قتل کر دیا گیا۔ اس معاملے میں دیگر ملزمان کے ساتھ پیراریولن کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ تب ان کی عمر 19 سال تھی۔ عدالت نے سماعت کے بعد انہیں سزائے موت کا حکم دیا تھا۔

      عدالت عظمیٰ نے مجرم کی رحم کی درخواست پر فیصلہ کرنے میں تاخیر کی بنیاد پر سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ ستمبر 2018 میں، تمل ناڈو کی کابینہ نے سات مجرموں کی رہائی کی سفارش کی تھی، جسے گورنر نے 27 جنوری 2021 کو غور کے لیے صدر کے پاس بھیجا تھا۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: