سالگرہ اسپیشل: راجیو گاندھی کو لے کر سچ ہوئی تھی سوامی جی کی پیشین گوئی!۔

پائلٹ کی ٹریننگ لے چکے راجیو گاندھی سیاست میں آنے کے خواہش مند نہیں تھے، لیکن حالات نے انہیں ملک کا سب سے کم عمر کا وزیر اعظم بنا دیا۔

Aug 20, 2019 02:04 PM IST | Updated on: Aug 20, 2019 02:59 PM IST
سالگرہ اسپیشل: راجیو گاندھی کو لے کر سچ ہوئی تھی سوامی جی کی پیشین گوئی!۔

راجیو گاندھی سیاست میں آنے کے خواہش مند نہیں تھے۔

سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی 75 ویں سالگرہ پر پورا ملک انہیں یاد کر رہا ہے۔ راجیو گاندھی کے سمادھی استھل ویر بھومی پر سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس صدر سونیا گاندھی نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ٹوئٹر پر راجیو گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔

بیس اگست 1944 کو پیدا ہوئے راجیو گاندھی ملک کے سب سے کم عمر کے وزیر اعظم تھے۔ 1984 میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد جب اچانک انہیں وزیر اعظم کی کرسی ملی تو ان کی عمر محض 40 سال تھی۔ پائلٹ کی ٹریننگ لے چکے راجیو گاندھی سیاست میں آنے کے خواہش مند نہیں تھے، لیکن حالات نے انہیں ملک کا سب سے کم عمر کا وزیر اعظم بنا دیا۔

انجینئرنگ کی پڑھائی کی لیکن ڈگری نہیں لے پائے

راجیو گاندھی نے پائلٹ بننے سے پہلے انجینئرنگ کی پڑھائی کی تھی لیکن وہ پڑھائی پوری نہیں کر پائے۔ کیمبرج کے ٹرینٹی کالج کے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں انہوں نے داخلہ لیا تھا۔ تین سال کی پڑھائی کے بعد بھی انہیں ڈگری نہیں مل پائی۔ اس کے بعد راجیو گاندھی نے لندن کے امپیریل کالج کے مکینیکل انجینئرنگ میں داخلہ لیا۔ لیکن وہاں بھی وہ پڑھائی پوری نہیں کر پائے۔ راجیو گاندھی کہا کرتے تھے کہ انہیں رٹنے میں دلچسپی نہیں تھی۔ اس لئے وہ انجینئرنگ کے امتحانات میں فیل ہوتے رہے۔

Loading...

اس کے بعد راجیو گاندھی نے دہلی کے فلائنگ کلب میں داخلہ لیا اور وہاں پائلٹ کی ٹریننگ لی۔ 1970 میں انہوں نے ائیر انڈیا میں کام کیا۔ طیارہ اڑانے کے اپنے شوق کے بارے میں بات کرتے ہوئے راجیو گاندھی نے ایک بار سمی گریوال کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ طیاروں کو لے کر ان کا شوق وجذبہ اس وقت شروع ہوا جب ان کے نانا پنڈت نہرو انہیں پہلی بار گلائڈنگ کلب لے کر گئے تھے۔ راجیو نے کہا تھا ’’ اس وقت میں نے کافی انجوائے کیا تھا۔ ابھی بھی کرتا ہوں۔ یہ ایک الگ طرح کی آزادی ہوتی ہے۔ یہ آپ کو ساری چیزوں سے دور لے جاتی ہے‘‘۔

راجیو گاندھی کو تھا فوٹوگرافی کا شوق

بہت کم لوگوں کو پتہ ہے کہ راجیو گاندھی کو فوٹوگرافی کا بھی شوق تھا۔ فوٹوگرافی کے بارے میں وہ گہری سمجھ رکھتے تھے۔ کئی مواقع پر انہیں کچھ پبلشرز نے فوٹو گرافی کو لے کر کتاب لکھنے کو کہا لیکن اپنی زندگی میں راجیو گاندھی ایسا کچھ نہیں کر پائے۔

ان کے انتقال کے بعد سونیا گاندھی نے ان کے کھینچے فوٹوگرافس کو لے کر ایک کتاب ریلیز کروائی۔

ہے"Rajiv’s World- Photographs by Rajiv Gandhi."کتاب کا نام

سال 1995 میں منظر عام پر آئی اس کتاب میں چار دہائیوں میں کھینچے گئے راجیو گاندھی کے فوٹو گرافس شامل ہیں۔ اس میں جنگل، پہاڑ اور آبشار جیسی قدرتی خوبصورتی والے فوٹوگرافس کے ساتھ راجیو کے پالتو جانوروں سے لے کر ان کے دوستوں اور رشتہ داروں کی تصویریں تک شامل ہیں۔

راجیو گاندھی کو فوٹوگرافی کا شوق تھا۔ راجیو گاندھی کو فوٹوگرافی کا شوق تھا۔

وزیر اعظم رہتے ہوئے اپنی کار خود چلایا کرتے تھے راجیو گاندھی

راجیو گاندھی ایسے واحد وزیر اعظم رہے ہیں جو اپنی کار خود چلایا کرتے تھے۔ وزیر اعظم رہنے کے دوران بھی وہ کئی مواقع پر خود ہی کار چلایا کرتے تھے۔ انتخابی تشہیر کے دوران بھی وہ خود ہی ڈرائیو کر کے اجتماع گاہ تک پہنچ جایا کرتے تھے۔

راجیو گاندھی صرف 40 سال کی عمر میں ملک کے وزیر اعظم بنے راجیو گاندھی صرف 40 سال کی عمر میں ملک کے وزیر اعظم بنے

راجیو گاندھی پر کتاب لکھنے والے صحافی سمن چٹوپادھیائے نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ایک بار بنگال کے الیکشن میں انہیں راجیو گاندھی کے ساتھ کار میں سفر کرنے کا موقع ملا۔ راجیو خود ہی کار چلا رہے تھے۔ وہ گراں پری ڈرائیور کی طرح اسٹیٹ ہائی وے پر کار کو بھگائے جا رہے تھے۔ کئی بار ان کے قافلے میں چل رہی حفاظتی گاڑیاں ان سے کافی پیچھے چھوٹ جاتیں۔ راجیو گاندھی کی رفتار کا مقابلہ کرنا آسان نہیں تھا۔

جب سوامی جی نے کی راجیو گاندھی کے سیاست میں آنے کی پیشین گوئی

یہ سبھی جانتے ہیں کہ راجیو گاندھی سیاست میں آنے کے خواہش مند نہیں تھے۔ ان کے سیاست میں آنے کو لے کر ایک دلچسپ واقعہ بتایا جاتا ہے۔ اس وقت سنجے گاندھی کی طیارہ حادثہ میں موت ہو گئی تھی۔ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی سے لوگ ملنے آ رہے تھے۔ اسی موقع پر شنکر آچاریہ سوامی سوروپا نند بھی اظہار تعزیت کرنے ان سے ملنے گئے۔

اندرا گاندھی سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ اب راجیو کو زیادہ طویل وقت تک طیارہ نہیں اڑانا چاہئے۔ اس پر اندرا گاندھی نے کہا کہ راجیو اگر طیارہ نہیں اڑائے گا تو کرے گا کیا؟ کہا جاتا ہے کہ سوامی بولے۔’’ اگر کوئی انسان خود کو بھگوان کو سونپ دیتا ہے تو ایشور ہی اس کی آگے کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ راجیو کو خود کو ملک کی خدمت میں وقف کر دینا چاہئے‘‘۔

اس کے بعد کانگریس کے لیڈران اور ارکان پارلیمنٹ راجیو گاندھی سے سیاست میں آنے کی درخواست کرنے لگے۔ اندراگاندھی نے سیاست میں آنے کے فیصلہ کو اپنے بیٹے پر چھوڑ رکھا تھا۔ راجیو گاندھی کہا کرتے تھے کہ اگر میرے سیاست میں آنے سے میری ماں کو مدد ملتی ہے تو میں ضرور سیاست میں آ جاؤں گا۔

 

Loading...