உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راجناتھ سنگھ نے کہا- 1971 کی جنگ کے دوران ہی ہوجانا چاہئے تھا پاک مقبوضہ کشمیرکا فیصلہ

    وزیر دفاع راجناتھ سنگھ۔ فائل فوٹو

    وزیر دفاع راجناتھ سنگھ۔ فائل فوٹو

    وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پیر کے روز کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) کے بارے میں فیصلہ 1971 میں ہوئے ہندوستان-پاکستان جنگ کے دوران ہی کرلیا جانا چاہئے تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      شملہ: وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پیر کے روز کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) کے بارے میں فیصلہ 1971 میں ہوئے ہندوستان-پاکستان جنگ کے دوران ہی کرلیا جانا چاہئے تھا۔ راجناتھ سنگھ نے ہماچل پردیش کے حمیر پور ضلع کے نادون میں شہیدوں کے اہل خانہ کے اعزاز میں  منعقدہ تقریب کو خطاب کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔

      راجناتھ سنگھ نے کہا، ’ہم نے حال ہی میں 1971 کے جنگ میں جیت کی گولڈن جوبلی تقریب منائی ہے۔ 1971 کے اس جنگ کو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا، کیونکہ وہ جنگ جائیداد، قبضے یا اقتدار کے بدلے انسانیت کے لئے لڑی گئی تھی۔‘ انہوں نے کہا، ’ایک ہی افسوس ہے۔ پی اوکے پر فیصلہ اسی وقت ہوجانا چاہئے تھا‘۔

      وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ہماچل پردیش کے جوالا مکھی میں شہیدوں کے اہل خانہ کے اراکین کو اعزاز سے سرفراز کیا۔ انہوں نے اس دوران خطاب میں کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ عالمی امن وامان کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماچل دیو اور ویر بھومی ہے۔ وزیر دفاع نے اپنے خطاب کے دوران رن بھومی میں میجر سومناتھ شرما سے لے کر کارگل جنگ میں قربانی دینے والے وکرم بترا کو بھی یاد کیا اور ان کی بہادری کی کہانی سناکر سبھی ہماچل پردیش کے باشندوں کو فخر محسوس کروایا۔

      واضح رہے کہ پاکستان کے خلاف 1971 میں ہوئی جنگ کے بعد سے کشمیر تنازعہ ابھی تک نہیں حل ہو پایا ہے۔ یہ تنازعہ تو تب سے ہی شروع ہوگیا تھا، جب ہندوستان آزاد ہوا تھا۔ اس وقت راجا ہری سنگھ کشمیر کے حکمراں ہوا کرتے تھے، جب پاکستانیوں کے ذریعہ کشمیر پر حملہ ہوا تو ہری سنگھ نے ہندوستان سے مدد مانگی اور انہوں نے ہندوستان کے ساتھ انضمام کرلیا۔ کشمیر کے جو حصے پاکستان کے قبضے میں ہیں، اسے ہی پی او کے یعنی پاک مقبوضہ کشمیر کہا جاتا ہے۔ یہ حصہ 22 اکتوبر 1947 سے ہی پاکستان کے قبضے میں ہے۔ہندوستان مسلسل پی او کے کو بھی اپنا اٹوٹ حصہ بتاتا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: