ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Rajya Sabha Election: مختلف ریاستوں کی 19 سیٹوں پر سیاسی گھمسان، گجرات اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی- کانگریس آمنے سامنے

راجیہ سبھا کی 19 سیٹوں (19 Rajya Sabha Seats) کے لئے انتخابات جاری ہے۔ نتائج کا اعلان آج ہی شام کو ووٹنگ کے بعد کردیا جائے گا۔

  • Share this:
Rajya Sabha Election: مختلف ریاستوں کی 19 سیٹوں پر سیاسی گھمسان، گجرات اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی- کانگریس آمنے سامنے
راجیہ سبھا انتخابات: 19 سیٹوں پر سیاسی گھمسان، کون مارے گا بازی

نئی دہلی: مختلف ریاستوں میں راجیہ سبھا کے لئے خالی ہوئی19 نشستوں پر آج ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ آج کے الیکشن میں 19 سیٹوں میں سے 8 پر سخت ٹکر کی امید ہے۔ اس وقت راجیہ سبھا میں بی جے پی کے پاس 75 اور کانگریس کے پاس 39 سیٹیں ہیں۔ مختلف ریاستوں میں جن 19 سیٹوں پر انتخابات ہو رہے ہیں، ان میں آندھرا پردیش اور گجرات میں 4-4، راجستھان اور مدھیہ پردیش میں 3-3۔ جھارکھنڈ میں دو اور منی پور، میگھالیہ اور میزورم میں ایک ایک سیٹ ہیں۔


گجرات میں راجیہ سبھا کی چار نشستوں کے لئے جمعہ کو ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس درمیان بھارتیہ ٹرائبل پارٹی (بی ٹی پی) کے دو اراکین اسمبلی نے کہا کہ وہ تب تک ووٹنگ نہیں کریں گے، جب تک کہ آدیواسیوں، مزدوروں اور دلتوں کی فلاح کو لے کر انہیں تحریری طور پر یقین دہانی نہیں کرائی جاتی ہے۔ مدھیہ پردیش میں راجیہ سبھا کی تین سیٹوں کے لئے ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس درمیان کانگریس پارٹی کے رکن اسمبلی کنال چودھری، جو کورونا وائرس پازیٹیو (مثبت) ہیں، پی پی ای کٹ پہن کر ووٹ ڈالنے پہنچے۔ رکن اسمبلی کنال چودھری کچھ دن پہلے کورونا وائرس ٹسٹ میں پازیٹیو آئے تھے۔




بڑی ریاستوں میں ہے کانٹے کی ٹکر

ان سیٹوں پر الیکشن میں بڑی ریاستوں جیسے راجستھان، مدھیہ پردیش، گجرات اور آندھرا پردیش میں کانٹے کی ٹکر ہے۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سخت ٹکر بتائی جارہی ہے۔ حالانکہ جیوتی رادتیہ سندھیا اور ان کے حامیوں کے کانگریس سے استعفیٰ دینے کے بعد پارٹی کی حالت تھوڑی کمزور نظر آ رہی ہے۔ مدھیہ پردیش میں ایک ایک سیٹ پر کانگریس اور بی جے پی آسانی کے ساتھ جیت جائیں گے۔ تیسری سیٹ کو لے کر پینچ پھنسے گا۔

راجستھان، مدھیہ پردیش اور گجرات میں کانٹے کی ٹکر ہے۔ جبکہ آندھرا پردیش میں جگن موہن ریڈی اور چندرا بابو نائیڈو کی پارٹی کے درمیان مقابلہ ہے۔
راجستھان، مدھیہ پردیش اور گجرات میں کانٹے کی ٹکر ہے۔ جبکہ آندھرا پردیش میں جگن موہن ریڈی اور چندرا بابو نائیڈو کی پارٹی کے درمیان مقابلہ ہے۔


اسی طرح راجستھان کی سیٹوں سخت ٹکر ہے، لیکن مانا جارہا ہے کہ وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت اپنے لمبے سیاسی تجربے کا اثر دکھا سکتے ہیں۔ گجرات کانگریس نے دو امیدوار کھڑے کئے ہیں، لیکن دو امیدوار جتانے کے لئے اس کے پاس 5 سیٹیں کم ہیں۔ وہیں، بی جے پی نے تین امیدوار کھڑے کئے ہیں، لیکن اس پاس بھی سیٹیں کچھ کم ہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ گجرات کی لڑائی میں دونوں پارٹیاں کس طرح منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ گجرات کی 4 میں سے 2 سیٹوں پر بی جے پی اور 1 سیٹ پر کانگریس کی جیت طے مانی جا رہی ہے۔ 1 سیٹ پر پینچ پھنسا ہوا ہے۔ جنوب کی ریاست آندھرا پردیش میں بھی چار سیٹوں کے لئے الیکشن ہو رہا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ ووٹنگ کے دوران وزیراعلیٰ جگن موہن ریڈی کی پارٹی کا زیادہ سیٹوں پر اثر دکھے گا۔ سامنے چندرا بابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی ہے۔ نائیڈو آندھرا پردیش کی سیاست کے پرانے کھلاڑی ہیں اور وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں، اس لئے یہاں بھی کانٹے کی ٹکر ہے۔
First published: Jun 19, 2020 02:36 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading