بڑی خبر ! دہلی کی غیر منظور شدہ بستیوں میں خواتین کے نام سے یا مشترکہ طورپر ہوگی رجسٹری ، جانیں کتنی لگے گی رجسٹریشن فیس

دہلی کی سینکڑوں غیر منظور شدہ بستیوں کو منظوری اور رہائشیوں کو مالکانہ حق دینے سے متعلق بل پر بدھ کو پارلیمنٹ کی مہر لگ گئی۔

Dec 04, 2019 08:04 PM IST | Updated on: Dec 04, 2019 08:53 PM IST
بڑی خبر ! دہلی کی غیر منظور شدہ بستیوں میں خواتین کے نام سے یا مشترکہ طورپر ہوگی رجسٹری ، جانیں کتنی لگے گی رجسٹریشن فیس

ہندوستان کے پارلیمنٹ کی فائل فوٹو ۔ رائٹرس / نیوز 18 ڈاٹ کام ۔

دہلی کی سینکڑوں غیر منظور شدہ بستیوں کو منظوری اور رہائشیوں کو مالکانہ حق دینے سے متعلق بل پر بدھ کو پارلیمنٹ کی مہر لگ گئی۔ راجیہ سبھا نے تین گھنٹے تک چلی بحث کے بعد ’ ’قومی دارالحکومت علاقہ دہلی (غیر منظور شدہ کالونیوں میں رہنے والے لوگوں کے امکلاک کے حقوق کی منظوری ) بل 2019 کو ثوتی ووٹوں سے پاس کردیا ۔ لوک سبھا نے اسے پچھلے ہفتے اپنی منظوریر دی تھی۔

مکانات اور شہری امور کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بل دہلی کی 40 لاکھ کی آبادی کو راحت دے گا ۔ اس سے لوگوں کو اپنے مکان اور زمین پر مالکانہ حق مل سکے گا اور وہ اس پر قرض وغیرہ لے سکیں گے۔ اس کے علاوہ اس سے ان کو بنیادی سہولیات بھی مہیا ہوں گی۔

Loading...

انہوں نے کہا کہ غیر منظور شدہ بستیوں کو منظوری دینے کے بعد جائیداد رجسٹری خواتین کے نام سے یا خاتون اور مرد دونوں کے نام سے مشترکہ طورپر ہوگی ۔ رجسٹری کےلئے معمولی فیس چکانی ہوگی۔ ان زمینوں کی رجسٹری کا عمل 16 دسمبر سے شروع ہوجائےگا ۔ سبھی عمل آن لائن ہوں گے ۔ اس سے پہلے بل پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جھگی بستیوں میں 20 لاکھ سے زیادہ لوگ رہتے ہیں ۔ ان لوگوں کے لئے خصوصی منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ ایسی بستیوں کی تعداد 190 ہے ، جس میں سے 30 کا سروے ہوچکا ہے اور 160 کے سروے کا کام چل رہا ہے۔

ہردیپ سنگھ پوری نے اس قدم کو مرکزی حکومت کی مضبوط سیاست اور قوت ارادی کا ثبوت بتاتے ہوئے کہا کہ یہ قانون اپریل مئی میں لانے کی تیاری شروع ہوئی تھی اور وہ بھی تب جب دہلی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ میں کہا تھا کہ کالونیوں کو ریگولرائز کرنے کے پہلے ڈیجیٹل میپ کےلئے دو سال کا وقت لگےگا ۔ انہوں نے کہا کہ قانون 1796 کالونیوں کے بارے میں ہے جن کی نشاندہی 2008 میں غیر منظور شدہ کالونیوں کے طورپر کی گئی تھی۔ یہی ان کالونیوں کے بارے میں اب تک کا سب سے تفصیلی دستاویز ہے۔ 11 سال میں کچھ نہیں کیا گیا ، جبکہ ان کالونیوں کی تعداد بڑھ گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ان کالونیوں میں سے 65 کو اس بل کے دائرے میں شامل نہیں کیا گیا ہے ، کیونکہ ان میں مکمل طورپر خوشحال لوگ رہتے ہیں ،ان کے سلسلے میں الگ سے کام کیا جائے گا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ سو مربع فٹ کے پلاٹ کےلئے 1217 روپے کی کل رجسٹریشن فیس بہت ہی کم اور مفت جیسی ہی ہے ۔ مرکزی حکومت اس رجسٹریشن فیس سے مرکزی حکومت کے تحت ایک سماجی ترقی فنڈ بنائےگی ۔ خالی زمین پر آسان شرطوں اور اصولوں کے ساتھ کمیونٹی ہال ، پارک وغیرہ بنائے جائیں گے ۔ رکن پارلیمنٹ بھی مقامی ترقی فنڈ کا استعمال کرسکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دہلی میں لوگوں کو غیر منظور شدہ کالونیوں میں زمین کا مالکانہ حق اور جائیداد کے رجسٹریشن کوآسان کرانے کی اصلاح نافذ کرنے کے لئے ان کالونیوں کا ڈیجیٹل میپ کیا جائےگا۔ اس کے بعد شہری فلاح و بہبود یونین کو اس ڈیجیٹل میپ کو فوراً بھیجا جائےگا اور ان سے 15 دن کے اندر کالونیوں کے چاروں کونوں کی تصویریں کھینچ کر پورٹل پر اپ لوڈ کی جائیں گی ۔ پورٹل 16 دسمبرسے شروع ہوجائےگا ۔

Loading...