پریس کانفرنس میں رو پڑے رام گوپال، بولے میرے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو ساتھ دیں

رام گوپال نے روتے ہوئے کہا کہ جس شخص نے پارٹی کا آئین لکھا ہو، جھنڈے کو منتخب کیا ہو، انتخابی نشان منتخب کیا ہو، اس شخص کو سماج وادی پارٹی کی سلور جبلی تقریب سے ٹھیک پہلے نکال دیا گیا۔

Nov 14, 2016 03:40 PM IST | Updated on: Nov 14, 2016 03:41 PM IST
پریس کانفرنس میں رو پڑے رام گوپال، بولے میرے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو ساتھ دیں

اٹاوہ۔ سماج وادی پارٹی سے 6 سال کے لئے نکالے گئے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ پروفیسر رام گوپال یادو پیر کو پریس کانفرنس کے دوران جذباتی ہو گئے۔ رام گوپال نے روتے ہوئے کہا کہ جس شخص نے پارٹی کا آئین لکھا ہو، جھنڈے کو منتخب کیا ہو، انتخابی نشان منتخب کیا ہو، اس شخص کو سماج وادی پارٹی کی سلور جبلی تقریب سے ٹھیک پہلے نکال دیا گیا۔ میں نے پارٹی کے خلاف کبھی کوئی کام نہیں کیا۔ میں اپنے کو بے قصور مانتا ہوں۔ مجھے کبھی وزیر کے عہدے سے لینا دینا نہیں رہا ہے۔ میں یہی چاہتا ہوں کہ یوپی الیکشن اکھلیش کی قیادت میں لڑا جائے۔

اگر لوگوں کو لگتا ہے کہ میرے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو میرا ساتھ دیں۔ اپنا درد بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، کون آدمی نہیں دکھی ہو گا؟ میں اپنی طرف سے کبھی بات نہیں کر سکتا۔ میں نے کبھی ایسا کوئی کام نہیں کیا جو پارٹی کے مفاد کے خلاف ہو۔ اس کے باوجود مجھے صفائی دینا پڑے تو میں کبھی بھی ایسا نہیں کر سکتا۔ میرا کوئی لالچ نہیں رہا کبھی۔ کبھی وزیر نہیں بننا چاہا۔ رام گوپال نے آگے کہا کہ میں تو اپنے آپ کو سماج وادی پارٹی کا ہی مانتا ہوں کیونکہ سپریم کورٹ کا بھی فیصلہ ہے کہ کوئی لیڈر جس پارٹی کے ٹکٹ سے عہدہ میں آتا ہے، اس پارٹی سے نکالے جانے پر بھی پارٹی کا رکن رہے گا۔

Loading...

رام گوپال نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ سے سماج وادی پارٹی سے کئی لیڈروں کو غیر آئینی طریقے سے وزیر اعلی اکھلیش یادو کو نظر انداز کرکے ٹکٹوں کی تقسیم کی جا رہی ہے۔ کئی ممبران اسمبلی مجھ سے ملے ہیں اور ان کی منشا ہے کہ تمام نکالے گئے رہنماؤں کی واپسی ہو اور ٹکٹوں کی تقسیم وزیر اعلیٰ کی دیکھ بھال میں ہو۔ الیکشن اکھلیش جی کی قیادت میں لڑا جائے اور وہی وزیر اعلی کا چہرہ ہوں۔

Loading...