ممبئی میں رمضان کی رونقیں دوبالا، عبادت کے ساتھ بازاروں میں بھی جم غفیر

جنوبی ممبئی قلابہ سے سیوڑی اور ورلی کے درمیان تقریباً 10کلومیٹر کے وسیع علاقہ میں پھیلا ہوا ہے۔ اس میں چند مسلم علاقے واقع ہیں۔

May 22, 2019 05:22 PM IST | Updated on: May 22, 2019 05:23 PM IST
ممبئی میں رمضان کی رونقیں دوبالا، عبادت کے ساتھ بازاروں میں بھی جم غفیر

فوٹو کریڈٹ: اے این آئی۔

عروس البلاد ممبئی دنیا بھر میں کئی وجہ سے مشہور ہے۔ لیکن ایک سب سے اہم سبب ماہ رمضان میں اب اس کے اہم علاقوں کی رونق ہے۔ مہینہ بھر مسلم اکثریتی علاقوں کی مساجد عبادت کے لیے کھلی رہتی ہیں ،وہیں ان علاقوں کے بازار بھی رات بھر کھلے نظرآتے ہیں اور15 رمضان سے یہاں کی رونق دوبالا ہوجاتی ہے ۔ کیونکہ 6،10 اور 12روزہ کو نماز تراویح کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے ۔

جنوبی ممبئی قلابہ سے سیوڑی اور ورلی کے درمیان تقریباً 10کلومیٹر کے وسیع علاقہ میں پھیلا ہوا ہے۔ اس میں چند مسلم علاقے واقع ہیں۔ ان مسلم محلوں کی شروعات کرافورڈ مارکیٹ سے ہوجاتی ہے جوکہ ایک تجارتی علاقہ ہے اور قلب شہر میں واقع ہے۔ حالانکہ قلابہ ، فورٹ مارکیٹ ،بوری بندر وغیرہ میں ملی جلی آبادی میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں اور ان کی کئی مساجد، مزار اور مدرسے واقع ہیں جن میں قلابہ کا دارالعلوم حنیفہ اور فورٹ میں مودی اسٹریٹ کی قہوہ خانہ مسجد قابل ذکر ہے۔ اسے 1800کے آس پاس بندرگاہ کے ملازمین نے قائم کیا تھا اور نصف صدی قبل شاندار عمارت کی شکل اختیار چکی ہے۔ بس یہاں سے کچھ فاصلہ سے مسلم اکثریتی علاقوں کی شروعات ہوجاتی ہے۔ کرافورڈ مارکیٹ ،عبدالرحمن اسٹریٹ،شیخ میمن اسٹریٹ ،منیش مارکیٹ ،حاجی مسافر خانہ، جامع مسجد ،محمد علی روڈ، پائیدھونی ،بھنڈی بازار،مینارہ مسجد ،زکریا مسجد ،ابراھیم رحمت اللہ روڈ،نل بازار ،ڈونگری چار نل ،میمن وارہ ،مغل مسجد ،جے جے اسپتال،مولانا شوکت علی روڈ،ناگپارہ ،دوٹانکی ،مدنپورہ،اگری پاڑہ ،ممبئی سینٹرل اور بائیکلہ تک پانچ مربع کلومیٹر کے علاقہ میں واقع گنجان آبادی ہے۔ دوسوسال پرانی تاریخی مشہور جامع مسجد کوکنی برادری کے ٹرسٹ کے تحت چلائی جارہی ہے جوکہ ایک تالاب پر تعمیر کی گئی ہے۔ فن تعمیر کے اس شاندار نمونہ کے احاطہ میں محمدی کتب خانہ بھی واقع ہے جسے حال میں جدید شکل دے دی گئی ہے۔

جنوبی ممبئی کے ان مسلم علاقوں میں عبدالرحمن اسٹریٹ میں ضرورت زندگی کی ہر ایک شئے آسانی سے دستیاب ہے اور ماہ رمضان میں یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں رہتی ہے۔قریبی مسافر خانہ اور حاجی صابو صدیق کی حاجیوں کے لیے بنائی گئی خوبصورت عمارت آج بھی سراٹھائے کھڑی ہے۔ حالانکہ قریب میں بیت الحجاج کی فلک بوس عمارت حاجیوں کی سرگرمیوں کا مرکز بن چکی ہے۔ مسافر خانہ اور منیش مارکیٹ میں ماہ رمضان کی خریداری کے لئے دوپہر کے بعد رش میں اضافہ ہوجاتا ہے اور رات دیر گئے تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ گلشن ایران ،کاف فردوس اور ریڈیو ہوٹل میں روزہ داروں کے لیے افطار کا خصوصی انتظام کیا جاتا ہے ۔ مسافرخانہ سے حاجی مستان مرزا کی یاد بھی وابستہ ہے۔ بمبئی امن کمیٹی کی بنیاد مرحوم واحد خان،فضل شادوغیرہ نے یہیں رکھی اور اب فرید شیخ نے پرچم تھام لیا ہے۔ محبوب عالم اور محبوب گڈوکی سماجی سرگرمیوں کے درمیان ذکا ءاللہ صدیقی کی سماجی اور ملی خدمات بھی زائرین ٹوروٹرویل کے دفتر سے جاری ہیں۔عید کے لیے مسافر خانہ سے کپڑے،لیڈیز سینڈل اور دیگر سامان دستیاب ہیں ،جبکہ شادی بیاہ کے لیے بھی یہاں خریداری عام بات ہے۔

Loading...

ممبئی میں رمضان کی رونقیں دوبالا ممبئی میں رمضان کی رونقیں دوبالا

کرافورڈ مارکیٹ چوراہے سے شروع ہونے والے محمدعلی روڈ بھنڈی بازار کے جوہر چوک پر ختم ہوتا ہے۔ اسے ماہ رمضان کی رونق کا اصل مرکز کہا جائے تو مبالغہ نہیں ہوگا۔ نماز ظہر کے بعد یہاں خریدوفروخت کی شروعات ہوجاتی ہے اور آہستہ آہستہ مجمع بڑھتا چلا جاتا ہے۔ روزہ افطار کے بعد مینارہ مسجد کے اطراف کا علاقہ سحری تک آباد رہتا ہے۔ یہاں انواع و اقسام کے پکوان ،مٹھائیاں ،مالپوہ ،فیرنی ،چکن فرائی ،افلاطون اور جانے کیا کیا پکوان یہاں مل جاتے ہیں۔ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ فلمی دنیا سے وابستہ مسلم اور غیر مسلم اداکار یہاں کا دورہ کرتے ہیں اور محظوظ ہوتے ہیں۔ ناخدا محلہ کی پہلی اے سی مسجد عبادت گز اروں سے بھری رہتی ہے۔ پہلی منزل پر مستوارت کے لیے بھی انتظامات کیے گئے ہیں۔ناخدا محلہ اور پائیدھونی میں خواتین کے ملبوسات اور مردوں کے ریڈی میڈ کرتا پاجامہ کی طرح طرح کی اقسام مل جاتی ہیں ،لیکن اگر کپڑے سلوانا ہے تو داوﺅخان کی دکان پر دستک دینا پڑتی ہے جہاں پہلے ہی ہاﺅس فل کا بورڈ لگا رہتا ہے۔ پائیدوھونی اور نل بازار سے کھجور، سوئیاں،سوکھے میوے اور دیگر پکوان کے مسالے اور اشیاءخریدے جاسکتے ہیں۔ یہاں کی حمیدیہ مسجد میں ہونے والی تراویح میں مقتدیوں کی صفیں مسجد کے باہر فٹ پاتھ اور سڑک تک پہنچ جاتی ہیں۔ یہاں تاخیر سے نماز تراویح ہونے کی وجہ سے تاجر اور دکاندارشریک ہوتے ہیں۔غفار میمن اور نوشاد احمد کے ذریعہ بھیڑ کے دوران اعلانات کیے جاتے رہتے ہیں۔ گمشدہ بچوں کو والدین تک پہنچایا جاتا ہے۔

Loading...