உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی پر پھر پہنچا بلڈوزر، کھدائی میں کروڑوں کی صفائی مشین ملنے کا سنسنی خیز دعویٰ

    اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی پر چلا بلڈوزر

    اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی پر چلا بلڈوزر

    اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کے اندر رامپور ضلع انتظامیہ کا بلڈوزر پہنچا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم کے حامیوں کی نشانداہی پر پولیس نے جوہر یونیورسٹی سے کھدائی کے بعد نگر پالیکا رامپور کی صفائی کرنے والی مشین برآمد کی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Rampur, India
    • Share this:
      رامپور: سماجوادی پارٹی کے قدآور لیڈر اور سینئر مسلم رہنما اعظم خان کی مشکلات کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہیں۔ پیر کے روز اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کے اندر رامپور ضلع انتظامیہ کا بلڈوزر پہنچا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم کے حامیوں کی نشانداہی پر پولیس نے جوہر یونیورسٹی سے کھدائی کے بعد نگر پالیکا رامپور کی صفائی کرنے والی مشین برآمد کی ہے۔ یونیورسٹی سے مشین برآمد ہونے کے بعد سے ہنگامہ مچ گیا ہے۔ اس معاملے میں اعظم خان، عبداللہ اعظم سمیت سات افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

      دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سماجوادی حکومت میں صفائی کرنے کے لئے کروڑوں روپئے کی مشین نگرپالیکا رامپور نے خریدی تھی، جس کا استعمال نگر پالیکا کی جگہ جوہر یونیورسٹی میں کیا جا رہا تھا۔ وہیں، جب 2017 میں بی جے پی کی حکومت آئی اور اس مشین کی تلاش ہوئی تو پتہ چلا کہ یہ مشین یونیورسٹی کے اندر کاٹ کر دبا دی گئی ہے۔ اسی مشین کو پیر کے روز پولیس نے کھدائی کرکے برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

      بیٹے عبداللہ اعظم کے حامیوں کی نشاندہی پر کارروائی کا دعویٰ

      جوہر یونیورسٹی میں ہوئی اس کارروائی کے بارے میں بتاتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی سنسار سنگھ نے بتایا کہ جوئے کے الزام میں دو لوگ پکڑے گئے تھے، جس میں ایک کا نام سالم ہے اور دوسرے کا انوار ہے۔ یہ دونوں اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم کے بہت قریبی ہیں۔ انہوں نے پوچھ گچھ کے دوران کئی باتوں کا انکشاف کیا تھا، جس کی بنیاد پر باقر علی نے کوتوالی میں ایک مقدمہ درج کرایا۔ مقدمے کے مطابق، سابقہ حکومت میں نگر پالیکا نے زمین کی صفائی کے لئے ایک بہت بڑی مشین خریدی تھی، جس کی قیمت کروڑوں میں تھی۔ مشین کا استعمال عام لوگوں کی جگہ یونیورسٹی میں کیا جا رہا تھا۔ جب نئی حکومت بنی تو اس مشین کی تلاش شروع ہوئی، جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ، وائس چانسلر اور ان کے ساتھیوں نے مل کر اس مشین کو کٹوا کر زمین میں دفن کردیا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: