رام پور کے شعلے: اعظم خان بنام جیہ پردا کی لڑائی میں خود کو ایسے دہرا رہی ہے تاریخ

اگر 2019 کا الیکشن جیتنے کے لئے اترپردیش ایک عظیم انتخابی میدان جنگ ہے تو مغربی یوپی کا رام پور حالیہ لڑائی کا صرف ایک بے تکا اور الگ تھلگ کارٹون ہے۔

Apr 13, 2019 01:26 PM IST | Updated on: Apr 13, 2019 03:36 PM IST
رام پور کے شعلے: اعظم خان بنام جیہ پردا کی لڑائی میں خود کو ایسے دہرا رہی ہے تاریخ

اعظم خان اور جیہ پردا کی فائل فوٹو

بالی ووڈ کی آل ٹائم ہٹ فلم ’ شعلے‘ کے سپوف ریمیک کا نام ’ رام پور کے شعلے‘ کیوں ہونا چاہئے اس کے پیچھے وجہ ہے۔ اگر 2019 کا الیکشن جیتنے کے لئے اترپردیش ایک عظیم انتخابی میدان جنگ ہے تو مغربی یوپی کا رام پور حالیہ لڑائی کا صرف ایک بے تکا اور الگ تھلگ کارٹون ہے۔

اس کا نمونہ لیجئے: بلاس پور اسمبلی حلقہ کے ایک اندرونی گاؤں میں بھگوا کرتے میں ایک آدمی بھیڑ سے خطاب کرنے کے لئے اٹھتا ہے۔ انہیں جنوبی ہندوستانی فلموں کے معروف فلم ساز، ہدایت کار اور اداکار کے طور پر پیش کیا جاتا ہےاور بتایا جاتا ہے کہ وہ بی جے پی امیدوار جیہ پردا کے بھائی راجا بابو ہیں۔

Loading...

راجا بابو اپنے خطاب میں کہتے ہیں ’’ بہن جی نے رام پور کو چمکا دیا اور وہ راکشش جیا جی کو بھگا دیا‘‘۔ اسی درمیان ایک بی جے پی کارکن نعرے لگانا شروع کر دیتا ہے’’ جیہ جی تم جدوجہد کرو، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘۔

اس کے بعد اداکارہ سے سیاست داں بنیں جیہ پردا کی انٹری ہوتی ہے جو اعظم خان کے خلاف الیکشن لڑ رہی ہیں۔ اپنے حریف پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے جیہ کہتی ہیں ’’ مہربانی کر کے ملک کو مضبوط بنائیے اور ووٹ دیجئے‘‘۔

خیال رہے کہ اعظم خان 15 سال پہلے کانگریس سے منسلک نواب کنبہ کی سیاست کو چیلنج دینے کے لئے جیہ پردا کو رام پور لے کر آئے تھے۔ جیہ پردا نے 2004 کا الیکشن لڑا اور کانگریس کی بیگم نور کو شکست دی۔ لیکن پچھلے پانچ سالوں میں اعظم خان کے ساتھ ان کے رشتے بگڑ گئے اور وہ امر سنگھ کے کیمپ میں چلی گئیں۔ امر سنگھ اس وقت ملائم سنگھ کے قریبی حلقے میں ابھرتے ستارے تھے۔

امر سنگھ نے 2009 میں سماج وادی پارٹی چھوڑ دی۔ عام انتخابات میں امر سنگھ رام پور کے لئے جیہ پردا کے انتخابی منیجر بن گئے۔ جیہ پردا اور نور بانو ایک بار پھر آمنے سامنے تھیں۔

سب سے سخت انتخابات میں سے ایک اس الیکشن میں اعظم خان نے جیہ پردا کو ہرانے کے لئے کام کیا۔ اس الیکشن میں یہ بھی کہا جانے لگا کہ بیگم نور بانو اعظم خان کی امیدوار ہیں اور جیہ پردا کو اعظم خان کو چیلنج دینے کے لئے کھڑا کیا ہے۔

جیہ پردا ایک بار پھر فاتح بنیں

امر سنگھ اور جیہ پردا دونوں نے ہی 2014 تک ایس پی چھوڑ دی تھی۔ دونوں نے راشٹریہ لوک دل کے ٹکٹ پر لوک سبھا کا الیکشن لڑا اور ہار گئے۔ اعظم خان 2012 کے اسمبلی انتخابات سے قبل اپنی پارٹی سماج وادی پارٹی میں لوٹ آئے تھے۔

اس لوک سبھا الیکشن میں اعظم خان ایس پی کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ حالانکہ انہیں دیکھ کر لگ رہا ہے کہ وہ ماضی سے سبق سیکھ کر آئے ہیں۔ اعظم خان اپنے تلخ اور متنازعہ بیانات کے لئے جانے جاتے ہیں۔ 2012 کے اسمبلی انتخابات میں رام پور شہر میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ضلع پولیس اور اس کے سربراہ کے خلاف بیان دیتے ہوئے کہا تھا ’’ بوڑھے چوہوں کی مونچھ نکل جائے تو وہ شہر کا کپتان نہیں ہو گیا‘‘۔

حالانکہ اس الیکشن میں اعظم خان احتیاط کے ساتھ چل رہے ہیں۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ اور یوگی آدتیہ ناتھ پر اپنے خون کا پیاسا ہونے کا الزام لگایا۔ وہ اپنے ہر خطاب میں کہہ رہے ہیں’’ یہ لوگ میری جان کے پیچھے پڑے ہیں۔ جا کو راکھے سائیاں مار سکے نہ کوئی‘‘۔

لیکن اعظم خان نے ابھی تک ایک بار بھی جیہ پردا پر ذاتی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ بی جے پی ہر دن اعظم خان پر حملہ بول رہی ہے اور انہیں اکسا رہی ہے۔ اعظم نے تب بھی اپنی اسکرپٹ نہیں بدلی جب راجا بابو نے انہیں راکشش کہا۔

 

سمت پانڈے کی تحریر

Loading...