ہوم » نیوز » وطن نامہ

رام پور: رکن پارلیمنٹ اعظم خان اپنے خاندان کے ساتھ ایس آئی ٹی کے روبرو ہوئے پیش

سماج وادی پارٹی کے سینئرلیڈراوررام پور سے رکن پارلیمنٹ اعظم خان بدھ کے روزایس آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ اعظم خان اپنی اہلیہ تزئین فاطمہ اوربیٹے عبداللہ اعظم کے ہمراہ رام پور پولیس اسٹیشن پہنچے۔

  • Share this:
رام پور: رکن پارلیمنٹ اعظم خان اپنے خاندان کے ساتھ ایس آئی ٹی کے روبرو ہوئے پیش
اعظم خان ۔ فائل فوٹو ۔

سماج وادی پارٹی کے سینئرلیڈراوررام پور سے رکن پارلیمنٹ اعظم خان بدھ کے روزایس آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ اعظم خان اپنی اہلیہ تزئین فاطمہ اوربیٹے عبداللہ اعظم کے ہمراہ رام پور پولیس اسٹیشن پہنچے۔ ہم آپ کوبتادیں کہ اعظم دوسری بارایس آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔ جانکاری کے مطابق ایس آئی ٹی نے اعظم خان کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں۔

اس سےپہلے منگل کو جل نگم گھوٹالہ کیس کے ملزم اعظم خان لکھنؤ میں ایس آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ جہاں ان سے گھنٹوں تک پوچھ گچھ ہوتی رہی۔ تاہم، رام پورمیں، مقامی ایس آئی ٹی نے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اعظم خان کوایک بارپھر نوٹس جاری کیا تھا۔ دراصل اعظم خان محمدعلی جوہریونیورسٹی کے چانسلرہیں اورکسانوں کی زمین پرقبضہ کرنے کے معاملے میں ایس آئی ٹی ان کا بیان درج کرنا چاہتی ہے۔اس سے پہلے ، ایس آئی ٹی نے اعظم خان کو25 ستمبرکو طلب کیا تھا، لیکن وہ اس وقت ایس آئی ٹی کے روبروحاضر نہیں ہوئے تھے۔

اعظم خان کے گھرپہنچاعدالت کا نوٹس

اس سے پہلے جوہریونیورسٹی کے لئے بھینسوں کی چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں اراضی قبضوں کے معاملے میں رکن اسمبلی اعظم خان کے گھرپھنس جانے کے معاملہ میں پولیس نے اعظم حان کے مکان اور یونیورسٹی کی تلاشی لی تھی۔ عدالتی نوٹس کی تصویراعظم کے گھر کے گیٹ کے باہر چسپاں کی گئی جس کو سوشل میڈیا پر زبردست شیئر کیا گیا۔ اعظم کے گھر کے باہر تھانہ گنج کی پولیس نے ان کی اہلیہ ، راجیہ سبھا ممبر ڈاکٹر تزئین فاطمہ اوربیٹے ایم ایل اے عبد اللہ اعظم کی موجودگی میں نوٹس جاری کیاتھا۔

اعظم خان کے خلاف 84 سے زیادہ مقدمات درج

ہم آپ کوبتادیں کہ رکن پارلیمنٹ بننے کے بعد سے اعظم خان کے خلاف 84 سے زیادہ مقدمات درج ہیں۔ اس میں جوہر یونیورسٹی کی اراضی سے متعلق 30 مقدمات بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ نوٹس اعظم خان کے گھر پرکسی کے ذریعہ حاصل نہیں کیے جانے پرچسپاں کیے گئے ہیں۔ (رپورٹ: وشال سکسینہ)
First published: Oct 02, 2019 08:12 PM IST