ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

لاک ڈاون کے دوران عصمت ریزی، 15 سالہ لڑکی آبروریزی کا شکار

مرکزی اورریاستی حکومتوں کی جانب سےخواتین اورلڑکیوں پر مظالم کے علاوہ عصمت ریزی کےخاتمےکیلئے سخت سے سخت قوانین نافذ کئےگئے ہیں۔ اس کے باوجود بعض درندہ صفت افراد لڑکیوں کی زندگیوں سےکھیل کر پورے سماج کا سر شرم سے نیچا کررہے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ کرناٹک کے رائچور ضلع کےکللورو گاوں میں پیش آیا ہے۔

  • Share this:
لاک ڈاون کے دوران عصمت ریزی، 15 سالہ لڑکی آبروریزی کا شکار
لاک ڈاون کے دوران کرناٹک کے رائچور ضلع میں ایک کمسن لڑکی کی عصمت ریزی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

رائچور: پورے ملک میں کورونا وائرس کے پیش نظرلاک ڈاون کے سبب عوام مختلف دشواریوں کے باوجود صبروتحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں، لیکن کرناٹک کے رائچورضلع میں ایک کمسن طالبہ کی عصمت ریزی کے واقعہ سے لوگ خوفزدہ ہوگئے ہیں۔ مرکزی اورریاستی حکومتوں کی جانب سےخواتین اورلڑکیوں پر مظالم کے علاوہ عصمت ریزی کےخاتمےکیلئے سخت سے سخت قوانین نافذ کئےگئے ہیں۔ اس کے باوجود بعض درندہ صفت افراد لڑکیوں کی زندگیوں سےکھیل کر پورے سماج کا سر شرم سے نیچا کررہے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ کرناٹک کے رائچور ضلع کےکللورو گاوں میں پیش آیا ہے۔


کللورو گاوں ضلع کے سروار پولیس اسٹیشن کےحدود میں آتا ہے۔ کللورو گاوں کے 23 سالہ بھیمنا نامی نوجواں نے اسی گاوں کی ساتویں جماعت میں زیر تعلیم 15 سالہ کمسن لڑکی کی عصمت ریزی کی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق متاثرہ لڑکی کسی کام سے بھیمناکےگھر گئی ہوئی تھی، لیکن بھیمنا نے موقع پاکرلڑکی کی عزت سے کھلواڑ کیا۔ اس سلسلے میں سروار پولیس اسٹیشن میں ایک معاملہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔ معاملہ سامنے آنےکے بعدخواتین اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں کی جانب سے واقعہ کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔


کللورو گاوں کے 23 سالہ بھیمنا نامی نوجواں نے اسی گاوں کی ساتویں جماعت میں زیر تعلیم 15 سالہ کمسن لڑکی کی عصمت ریزی کی ہے۔ علامتی تصویر
کللورو گاوں کے 23 سالہ بھیمنا نامی نوجواں نے اسی گاوں کی ساتویں جماعت میں زیر تعلیم 15 سالہ کمسن لڑکی کی عصمت ریزی کی ہے۔ علامتی تصویر


مقامی سماجی اورخاتون تنظیموں کا کہنا ہےکہ روز بروز عصمت ریزی کے معاملے سامنے آنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض لوگوں پر قوانین کا اثر نہیں ہو رہا ہے۔ سماجی کارکنوں نے عصمت ریزی کے واقعات میں ملوث افرادکو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ خواتین او رلڑکیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ بصورت دیگرسماج میں خو اتین اورلڑکیوں کا جینا مشکل ہوجائےگا۔ بعض دانشوروں کا کہنا ہےکہ کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاون کے سبب ملک کے عوام کا برا حال ہے۔ ایسی سنگین صورتحال میں خواتین اور کمسن لڑکیوں کے ساتھ گھناونی حرکت ناقابل معافی جرم ہے۔
First published: Apr 22, 2020 06:07 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading