உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شادی کا جھانسہ دے کر خاتون کی آبروریزی، گرفتار ملزم شادی شدہ، جھوٹ بول کر پھنسایا

    شادی کا جھانسہ دے کر خاتون کی آبروریزی، گرفتار ملزم شادی شدہ، جھوٹ بول کر ہھنسایا

    شادی کا جھانسہ دے کر خاتون کی آبروریزی، گرفتار ملزم شادی شدہ، جھوٹ بول کر ہھنسایا

    ممبئی کے ماہم پولیس اسٹیشن میں ایک 26 سالہ خاتون کے ساتھ آبروریزی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ خاتون کے بیان کی بنیاد پر پولیس نے ملزم عبدالصفیان حفیظ الرحمن شیخ 30 سال کے خلاف دفعہ 376 (2) (N) اور آئی پی سی کی 384 کے تحت معاملہ درج کرکے گرفتارکرلیا ہے۔

    • Share this:
    ممبئی: ممبئی کے ماہم پولیس اسٹیشن میں ایک 26 سالہ خاتون کے ساتھ آبروریزی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ خاتون کے بیان کی بنیاد پر پولیس نے ملزم عبدالصفیان حفیظ الرحمن شیخ 30 سال کے خلاف دفعہ 376 (2) (N) اور آئی پی سی کی 384 کے تحت معاملہ درج کرکے گرفتارکرلیا ہے۔ ملزم کو عدالت میں ہیش کیا گیا، جہاں اسے 5 اگست تک پولیس تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔

    پولیس سے موصول ہونے والی اطلاع کے مطابق ملزم اور متاثرہ خاتون کی پہچان چند ماہ قبل ایک جم میں ہوئی تھی اور دونوں کے درمیان گہرے تعلقات بن گئے۔ ملزم نے شادی کا جھانسہ دے کر کئی بار اس کی عزت سے کھلواڑ کیا، چند کچھ دن پہلے گزرنے کے بعد متاثرہ خاتون کو پتہ چلا کہ ملزم پہلے سے شادی شدہ ہے۔

    پولیس نے ملزم عبدالصفیان حفیظ الرحمن شیخ 30 سال کے خلاف دفعہ 376 (2) (N) اور آئی پی سی کی 384 کے تحت معاملہ درج کرکے گرفتارکرلیا ہے۔
    پولیس نے ملزم عبدالصفیان حفیظ الرحمن شیخ 30 سال کے خلاف دفعہ 376 (2) (N) اور آئی پی سی کی 384 کے تحت معاملہ درج کرکے گرفتارکرلیا ہے۔


    متاثرہ خاتون نے دوبارہ اس کی مخالفت شروع کر دی، اس وقت ملزم نے خاتون کو دھمکی دی کہ اگر وہ کسی سے کچھ کہے گی تو اس کی تصویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دے گا اور اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزم  نےخاتون کو لوٹنا شروع کردیا۔ اب تک خاتون سے 12 تولہ سونا لے چکا ہےاور اس کے بعد اس نےخاتون سے پیسے مانگنے شروع کر دیئے، جس کی وجہ سے خاتون پریشان ہوگئی اور اس نے قریبی تھانے جاکر مقدمہ درج کرایا۔ ماہم پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد ملزم کو دھاراوی کے علاقے سے گرفتارکیا اور اب اس بات کی تفتیش کی جا رہی ہے کہ ملزم نے اورکتنوں کو دھمکی دی اور ان کا استحصال کیا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: