ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

LOC Ceasefire Violation: وہ فون کال جس سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوا سمجھوتہ

LOC Ceasefire Violation: اسلام آباد اور نئی دہلی میں ایک مشترکہ بیان جاری کرکے دونوں فریقوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل آف ملیٹری آپریشنز نے ہاٹ لائن پر حالات کو لے کرگفتگو کی ۔ اس کے تحت لائن آف کنٹرول اور سبھی دیگر علاقوں میں حالات کا خوشگوار اور کھلے ماحول میں جائزہ لیا گیا ۔

  • Share this:
LOC Ceasefire Violation: وہ فون کال جس سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوا سمجھوتہ
وہ فون کال جس سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوا سمجھوتہ ۔ فائل فوٹو ۔ پی ٹی آئی ۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کی خلاف ورزی کو لے کر دو دن پہلے ایک سمجھوتہ ہوا ہے ۔ اس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان طے کیا گیا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرو اور دیگر علاقوں میں جنگ بندی کو نہیں توڑیں گے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کو دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل آف ملیٹری آپریشنز کے درمیان فون پر بات چیت میں یہ سمجھوتہ ہوا ۔ خاص بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان گفتگو ایسے وقت پر ہوئی ہے جب ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے معاملات میں اضافہ دیکھا جارہا تھا ۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ہاٹ لائن ہمیشہ کھلی رہتی ہے ۔ میجر رینک کے ایک افسر روٹین کے معاملات پر گفتگو کیلئے پاکستان سے بات چیت کرتے رہتے ہیں ۔ علاوہ ازیں بریگیڈیئر لیول کے ایک افسر بھی ہفتہ میں ایک مرتبہ بات چیت کرتے ہیں ۔ جبکہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل آف ملیٹری آپریشنز کبھی کبھی ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں ۔ لہذا جنگ بندی کولے کر سجھوتہ ڈی جی ایم او کے درمیان بات چیت میں ہوا ہے ۔


اسلام آباد اور نئی دہلی میں ایک مشترکہ بیان جاری کرکے دونوں فریقوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل آف ملیٹری آپریشنز نے ہاٹ لائن پر حالات کو لے کرگفتگو کی ۔ اس کے تحت لائن آف کنٹرول اور سبھی دیگر علاقوں میں حالات کا خوشگوار اور کھلے ماحول میں جائزہ لیا گیا ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقوں نے 24 ۔ 25 فروری کی نصف شب سے لائن آف کٹرول اور سبھی دیگر علاقوں میں جنگ بندی سمجھوتوں اور آپسی معاہدوں پر سختی سے عمل کرنے سے اتفاق ظاہر کیا ۔


کئی لوگوں کی ہوئی موت

داخلی امور کے وزیر مملکت کشن ریڈی نے اس ماہ کی شروعات میں لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا تھا کہ گزشتہ تین سالوں میں پاکستان سے متصل ہندوستان کی سرحد پر جنگ بندی کے سمجھوتوں کی خلاف ورزی کے کل 10752 واقعات پیش آئے ، جس میں 72 سیکورٹی اہلکاروں اور 70 عام لوگوں کی جانیں تلف ہوگئیں ۔ انہوں نے کہا تھا کہ 2018 ، 2019 اور 2020 میں جموں و کشمیر میں بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول کے پاس سرحد پر گولہ باری میں 364 سیکورٹی اہلکار اور 341 عام لوگ زخمی ہوئے ۔

سال 2003 میں ہوا تھا سمجھوتہ

سال 2003 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایل او سی پر جنگ بندی سمجھوتہ ہوا تھا ۔ اس کے تحت طے کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک کی افواج سرحد پر ایک دوسرے پر گولہ باری نہیں کریں گی ۔ یہ سمجھوتہ تقریبا تین سالوں تک ٹھیک ٹھاک چلا ، لیکن پاکستان نے سال 2005 میں پھرگولہ باری شروع کردی ۔ وہیں گزشتہ سال 2020 میں سرحد پر پاکستان نے ریکارڈ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 26, 2021 07:54 AM IST