உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایمبولینس نہیں آئی تو حاملہ کو بائیک پر لے گئے گھر والے، راستے میں ہی ڈیلیوری

    رتلام کے اس آدیواسی گاوں میں اس طرح سڑک پر ڈیلیوری کرانی پڑی۔

    رتلام کے اس آدیواسی گاوں میں اس طرح سڑک پر ڈیلیوری کرانی پڑی۔

    No Road, No Network: بی ایم او ڈاکٹر جتیندر نے بتایا کہ گاوں میں سڑک نہیں ہونے سے وہاں ایمبولینس لے جانے میں پریشانی ہوتی ہے۔ گاوں میں موبائل نیٹ ورک کی پریشانی شروع سے ہے، جس سے اہل خانہ سے رابطہ کرنے میں کافی پریشانی ہوتی ہے۔ سی ایم او ڈاکٹر پربھاکر نناورے نے معاملے میں بتایا کہ خاتون اور بچے کی صحت کی جانکاری لے کر ضروری ہدایات دی گئی ہیں۔ یہ 108 ایمبولینس کا معاملہ ہے، جسے سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ اگر کوئی قصور وار ہے تو اس پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Ratlam, India
    • Share this:
      رتلام: مدھیہ پردیش کے گاوں میں ہیلتھ سروس کا حال سمجھنا ہو تو رتلام کی اس خبر کو پڑھیں۔ رتلام کے آدیواسی انچل کے ایک گاوں میں ایک حاملہ خاتون کو درد زہ ہوا۔ اہل خانہ نے 108 نمبر پر کال کرکے ایمبولینس کی ضرورت بتائی۔ گھنٹوں انتظار کرنے کے بعد بھی جب ایمبولینس گاوں میں نہیں پہنچی تو اہل خانہ نے موٹرسائیکل پر حاملہ خاتون کو اسپتال تک لے جانا طے کیا، لیکن اسپتال لے جانے کے دوران ہی درد تیز ہونے لگا اور راستے میں اس نے بچی کو جنم دیا۔

      یہ معاملہ سیلانہ اسمبلی حلقہ کے برڑا پنچایت کے بیوٹیک گاوں کا ہے۔ ایمبولینس کے نہ پہنچنے اور راستے میں ہی بچی کی پیدائش کی اطلاع ملنے کے بعد سیلانہ بلاک میڈیکل آفیسر جتیندر ریکوار ایمبولینس کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے خاتون اور نوزائیدہ بچی کو سیلانہ کمیونٹی سینٹر میں بھرتی کرایا۔

      ڈاکٹروں کے مطابق، فی الحال زچہ بچہ دونوں صحتیاب ہیں۔ بلاک میڈیکل آفیسر نے اس صورتحال کے لئے سڑک نہ ہونے کی بات کہی اور موبائل نیٹ ورک کی پریشانی کی بات بھی کہی۔ واضح رہے کہ یہ گاوں جیس کے لیڈر کیشو رام نناما کا آبائی گاوں ہے۔ نناما اس بار ضلع پنچایت میں نائب صدر منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے بھی اس معاملے سے متعلق سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

      واضح رہے کہ برڑا پنچایت کے بیوٹیک گاوں میں رہنے والے دیوی لال کی بیوی کو اتوار کی صبح 9 بجے کے قریب درد زہ ہوا۔ اہل خانہ نے 108 نمبر پر فون کرکے ایمبولینس کو اطلاع دی، لیکن گھنٹوں انتظار کے بعد بھی جب ایمبولینس موقع پر نہیں پہنچی، تب اہل خانہ نے حاملہ سنگیتا کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر شیو گڑھ کے لئے روانہ ہوگئے۔ شیو گڑھ لے جاتے وقت راستے میں ہی درد زہ تیز ہوگیا اور راستے میں ہی سنگیتا نے بچی کو جنم دیا۔ وہاں بھی تقریباً ایک گھنٹے تک خاتون اور نوزائیدہ راستے میں پڑے رہے، مگر ایمبولینس پھر بھی ان تک نہیں پہنچ پائی، جس کے بعد اہل خانہ خاتون کو لے کر گھر لوٹ گئے۔

      اس پورے معاملے پر بی ایم او ڈاکٹر جتیندر نے بتایا کہ گاوں میں سڑک نہیں ہونے سے وہاں ایمبولینس لے جانے میں پریشانی ہوتی ہے۔ گاوں میں موبائل نیٹ ورک کی پریشانی شروع سے ہے، جس سے اہل خانہ سے رابطہ کرنے میں کافی پریشانی ہوتی ہے۔ سی ایم او ڈاکٹر پربھاکر نناورے نے معاملے میں بتایا کہ خاتون اور بچے کی صحت کی جانکاری لے کر ضروری ہدایات دی گئی ہیں۔ یہ 108 ایمبولینس کا معاملہ ہے، جسے سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ اگر کوئی قصور وار ہے تو اس پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: