உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل: وائی ایس آرکانگریس نے بل کی مخالفت کرنے کا کیا اعلان

    طلاق ثلاثہ بل راجیہ سبھا میں بھی منظورہوگیا ہے۔

    طلاق ثلاثہ بل راجیہ سبھا میں بھی منظورہوگیا ہے۔

    آج راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل پیش کردیاگیاہے۔مرکزی وزیرقانون روی شنکرپرساد نے ایوان میں اس بل کو پیش کیاہے۔اس وقت ایوان میں اس اہم بل پر بحث جاری ہے۔

    • Share this:


      آج راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل پیش کردیاگیاہے۔مرکزی وزیرقانون روی شنکرپرساد نے ایوان میں اس بل کو پیش کیاہے۔اس وقت ایوان میں اس اہم بل پر بحث جاری ہے۔ کانگریس کے رکن امی یاجنِگ۔ جے ڈی یو بی نارائن سنگھ نے اس بل کا بائیکاٹ کیا۔ وہیں مرکزی وزیراقلیتی بہبود نے آج کے اس دن کو تاریخی قراردیاہے۔ وہیں اسی دوران کانگریس راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کے درمیان لنچ کو لیکرلفظی جھڑپ ہوگئی اورایوان کی کارروائی کو 2 بجےتک ملتوی کردیاگیاہے۔لنچ کے بعد راجیہ سبھا میں دوبارہ کارروائی شروع ہوگئی ہے۔ ایوان میں سماج وادی کے رکن پارلیمنٹ جاوید علی خان نے پارٹی کا موقف رکھا۔ انہوں نے اس بل کی مخالفت کی ۔ انہوں نے اس قانون کو غیردستوری قانون دیاہے۔ وہیں دوسری جانب وائی ایس آرکانگریس نے تین طلاق بل کی مخالفت کرنے کا اعلان کردیاہے۔ جبکہ اس معاملے پرٹی آرایس کے ارکان نے خاموشی اختیارکیے ہوئے ہیں۔

      اس سے پہلے بی جے پی نے سبھی ارکان پارلیمنٹ کوایوان میں موجود رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے وہپ جاری کیاہے۔راجیہ سبھا میں موجودہ ارکان کی تعداد 241ہیں اور اکثریت کے لیے 121ارکان کی رضامندی ضروری ہے ۔این ڈی اے اتحادیوں کے ارکان کی تعداد 113ہے-جے ڈی یو مخالفت کرے گی تو صرف 107ارکان ہوجائیں گے۔ بتایاجارہاہے کہ جے ڈی یو واک آؤٹ کرسکتی ہے۔ تب ایوان میں ارکان کی تعداد 235رہ جائے گی اور اکثریت کے لیے 118امیدوارضروری ہوں گے۔11سے 12غیر این ڈی اے ارکان کے ووٹوں کی ضرورت پڑے گی۔
      First published: