ہوم » نیوز » وطن نامہ

نابالغ بچوں کی عصمت دری پر2ماہ میں مکمل ہوگی سماعت، روی شنکرپرساد نے دیا اشارہ

مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ جلد ہی ملک میں مزید فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ تاکہ انصاف کی رسائی میں تیزی لائی جاسکیں۔

  • Share this:
نابالغ بچوں کی عصمت دری پر2ماہ میں مکمل ہوگی سماعت، روی شنکرپرساد نے دیا اشارہ
مرکزی وزیر روی شنکر پرساد: فائل فوٹو۔

مرکزی حکومت اب خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کو روکنے کے لئےسخت کارروائی کے موڈ میں ہے۔ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ جلد ہی ملک میں مزید فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ تاکہ انصاف کی رسائی میں تیزی لائی جاسکیں۔ اس کے ساتھ ہی ایسا انتظام کیا جائے گا،تاکہ ایسے معاملے میں جلد ازجلد انصاف دیا جاسکے۔ خاص کرنابالغوں کی عصمت دری جیسے معاملات کو 2 ماہ کے اندرہی فیصلے سنائیں جائیں گے۔

 

مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا کہ مرکزی اورریاستی حکومتوں نے ملک میں 1023 نئی فاسٹ ٹریک عدالتیں بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ ان میں سے 400 فاسٹ ٹریک عدالتیں بنانے پراتفاق کیا گیا ہے۔ ابھی ملک میں 704 فاسٹ ٹریک عدالتیں چل رہی ہیں۔ مرکزی وزیر قانون و انصاف روی شنکر پرساد نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت ملک بھر میں فاسٹ ٹریک عدالتوں کی تعداد بڑھانے کے لئے سنجیدگی سے کوششیں کررہی ہے۔روی شنکر پرساد نے آج یہاں راجستھان ہائی کورٹ کی نئی تعمیر شدہ عمارت کے افتتاحی تقریب کے موقع پر کہا کہ سب کو خواتین سے متعلق معاملات کو جلد نمٹانے کے لئے سوچنا چاہئے۔ مرکزی حکومت اس معاملے میں مکمل تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔ روی شنکر پرساد نے کہا میں تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کو خط لکھنے جارہا ہوں۔ میں سب سے اپیل کرتا ہوں ہے کہ عصمت دری کے واقعات خصوصاً کمسن بچوں کے ساتھ عصمت دری کے معاملات میں سماعت دو ماہ کے اندرمکمل کرلی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں اپنے محکمہ قانون کوبھی ضروری ہدایات دے رہے ہیں۔ روی شنکر پرساد نے کہا کہ جوڈیشل سیکٹرمیں صلاحیت کو مساوی مواقع فراہم کرنے کے لئے آل انڈیا سطح پر عدالتی افسروں کی بھرتی کرنے کی ضرورت کو بیان کرتے ہوئے ،روی شنکر پرساد کا کہناہے کہ معاشرے کے تمام باصلاحیت افراد کو عدلیہ میں مواقع ملنے چاہئیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ یہ امتحان یونین پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سپریم کورٹ کی رہنمائی میں لیا جاسکتا ہے۔ کالجیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ وکیل کوٹہ سے ہائیکورٹ میں جج مقرر کرے ، لیکن انہیں ان لوگوں کے بارے میں بھی سوچنا پڑے گا جن کے اہل خانہ سے پہلے کوئی وکیل نہیں ہے۔ بہت سے صلاحیت مند لوگ ہیں جن کے والدین نے انہیں تنکانتکاجوڑ کریہاں تک پہنچایا ہے۔
First published: Dec 07, 2019 10:44 PM IST