ہوم » نیوز » وطن نامہ

روہنگیا مہاجرین معاملہ: منیش چندیلا کے ٹوئٹ کے بعد مسلم تنظمیں ناراض، کارروائی کا مطالبہ

روہنگیا مہاجرین ک کیمپ میں آگ زنی کرنے کو لے کر منیش چندیلا کے ٹوئٹ کے بعد ملی تنظیموں نے کارروائی کا مطالبہ کیاہے۔

  • Share this:
روہنگیا مہاجرین معاملہ:  منیش چندیلا کے ٹوئٹ کے بعد مسلم تنظمیں ناراض، کارروائی کا مطالبہ
علامتی تصویر

نئی دہلی: دارالحکومت دہلی کے جامعہ نگر علاقے میں کالندی کنج سے متصل روہنگیا مہاجرین کیمپ میں ہوئی آتشزدگی سے زبردست نقصان کے بعد مہاجرین کی با زآباد کاری کا سلسلہ ابھی جاری ہی ہے ، اسی دوران اے بی وی پی سے منسلک منیش چندیلا نامی ایک نوجوان نے ٹوئٹ کے ذریعہ آگ لگانے کی ذمہ داری لینے کے بعد پولس پر کارروائی کرنے کادبائو بڑھتا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے پولس کمشنر امولیہ پٹنائک سے اس نوجوان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیاہے۔ نوید حامد نے پولس کمشنر کو اس نوجوان کا ٹوئٹ بھیج کر کارروائی کا مطالبہ کیاہے۔ تو وہیں دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے بھی سائوتھ دہلی کے ڈی سی پی کو خط لکھ کر کارروائی سے متعلق جواب طلب کیاہے۔ جبکہ روہنگیامہاجرین کی کفالت کررہے زکوۃ فائونڈیشن کے صدر ظفر محمود نے اسے مسترد کردیا۔



نیوز 18اردوسے ٹیلیفونک بات چیت میں ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کہاکہ ہم نے ڈی سی پی کو خط لکھ جواب طلب کیاہے۔ ہمیں امید ہے کہ جب میرا خط ان کے پاس پہنچے گا تو وہ مناسب جواب دیں گے اور اس شخص کے خلاف کارروائی کریں گے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پہلے ہم خط کے جواب کا انتظار کریں گے، اس میں کچھ وقت لگے گا، اس کے بعد پھر آگے کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ حالانکہ منیش چندیلا نامی نوجوان نے خود آگ لگانے کا اعتراف کیا ہے تو پھر اس پر کارروائی میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔

سید ظفر محمود نے کہاکہ جس طرح سے یہ واقعہ ہوا ہے، مجھے نہیں لگتا کہ کسی نے ایسا کیاہے، بلکہ مجھے تو لگتا ہے کہ وہ نوجوان واہ واہی لوٹنے کے لئے اس طرح کی بات کہی ہے۔ ظفر محمود کہتے ہیں کہ ایک نوجوان کے ذریعہ ٹوئٹ کرکے اعتراف کرنے کے بعد اس معاملے کی تحقیقات تو ضرور ہونی چاہئے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس نوجوان نے شہرت حاصل کرنے کے لئے ایسا کہا ہے۔ روہنگیا مہاجرین کے کیمپ میں جہاں آگ لگی تھی، وہ شاید شاٹ سرکٹ کی وجہ سے تھا، کیونکہ کیمپ کے درمیان میں آگ لگی تھی۔

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے پولس کمشنر کو بھیجے گئے خط میں لکھا ہے کہ ’’ ملزمین کا سوشل میڈیا پر سرےعام دعویٰ کرنا، دہلی پولیس کے لئے چیلنج ہے۔پناہ گزیں کیمپ میں آگ لگانے کے کچھ دیر بعد ہی مذکورہ ٹویٹ کئے گئے تھےلہٰذاہم منیش چندیلا کی فوری گرفتاری کامطالبہ کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ کالندی کنج واقع روہنگیا کیمپ میں 14اپریل کی شب میں 3:45بجے آگ لگی تھی، جس سے 50گھر جل کر خاک ہوگئے تھے اورتقریباً 250لوگ بے گھر ہوگئے تھے۔ حالانکہ اس کے بعد انہیں دہلی سرکار کی طرف سے 5دن کے لئے عارضی کیمپ میں رکھا گیاتھا اور مسلم ملی تنظیمیں بھی ان کی باز آباد کاری کے لئے کام کررہی ہیں، لیکن دو روز قبل منیش چندیلا نامی نوجوان نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ ہاں میں نے گزشتہ روز روہنگیا کیمپ میں آگ لگائی تھی ۔ حالانکہ اس کے بعد اس ایک دوست نے یہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنے کو کہا اور اس نے ڈیلیٹ کردیا۔ بہر حال اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا واقعی آگ زنی کسی سازش کا حصہ ہے یا پھر سستی شہرت کے لئے اس نوجوان نے ٹوئٹ کیا۔ بہر حال یہ پولس تحقیقات کے بعد ہی پتہ چلے گا۔
First published: Apr 20, 2018 09:05 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading