ہوم » نیوز » وطن نامہ

...لو سیکس اور دھوکہ : اپنے ہی داماد کو کال گرل کے ساتھ سسر نے دیکھا لائیو اور پھر ہوا یہ

آکاش کی بیوی مونا اور سسر ستیش کو شک تھا کہ آکاش کسی غلط سنگت میں پڑ گیا ہے اور کچھ ایسے کام دھندے کر رہا ہے جو اسے نہیں کرنا چاہئے۔ اسی کی پڑتال جب کی گئی تو انکشاف ہو ا

  • Share this:
...لو سیکس اور دھوکہ : اپنے ہی داماد کو کال گرل کے ساتھ سسر نے دیکھا لائیو اور پھر ہوا یہ
علامتی تصویر

آکاش کی بیوی مونا اور سسر ستیش کو شک تھا کہ آکاش کسی غلط سنگت میں پڑ گیا ہے اور کچھ ایسے کام دھندے کر رہا ہے جو اسے نہیں کرنا چاہئے۔ اسی کی پڑتال جب کی گئی تو انکشاف ہو ا کہ غلط سنگت تو ہے ہی بلکہ آکاش ایک نمبر کا عیاش اور کریکٹر لیس آدمی ہے۔ جس گھر میں شراب پینا ہی بہت بڑی اعتراض کی بات تھی اسے جب پورا ماجرا پتہ لگا تو انہیں  محسوس ہوا کہ آکاش نے بڑا دھوکہ دیا ہے۔جے پور کا رہنے والا ایک بزنس مین آکاش کی شبیہ اس کے گھھر کے درمیان ایک شریف اور سیدھے سادے آدمی کی تھی۔ گھر میں سب کو یہی پتہ تھا کہ وہ شراب سگریٹ جیسی عادتوں سے میلوں دور ہے اور دوسرے عیبوں یا وہ کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ تو شک بھی کسی کو نہیں ہو سکتا تھا لیکن کچھ وقت سے اس کا برتاؤ اسے شک کے دائرے میں لا رہا تھا۔


آکاش اکثر گھر دیر سے آنے لگا تھا ۔مونا کچھ پوچھتی تو وہ بات ٹالنے کی کوش کرتا یا ایسے جواب دیتا جن سے مونا کو تسلی نہیں ہوتی۔ دیر رات لوٹنے پر آکاش کی آنکھیں بھاری دکھتی تھیں۔ اس کے منھ سے ٹھیک سے لفظ نہیں ادا ہوتے تھے۔ مونا نے کئی مرتبہ چیک کیا تھا لیکن اس کے منھ سے سگریٹ یا شراب کی بو بھی نہیں آتی تھی۔ اس کے بیگ ، کار یا الماری کہیں بھی ایسا کوئی سراغ ، ثبوت نہیں تھا جس سے یہ پتہ چلے کہ وہ کسی بری لت کس بری لت کا شکار ہے۔


اپنی اس الجھن کو مونا نے اپنے گھر پر شیئر کیا تو اس کے والد ستیش نے کہا کہ وہ فکر نہ کرے ۔ ستیش نے سب کچھ سیکھ بھال کر مونا کی شادی کی  تھی اور اسے یقین تھا کہ آکاش اور اس کے گھر والے اس طرح کی بری عادتوں سے دور رہتے ہیں۔ ستیش نے پہلے اپنے کچھ ذرائع سے پتہ کرنے کی کوشش کی تو کوئی خاص جانکاری ہاتھ نہیں لگی۔ اسی درمیانمونا نے ستیش کو ایک بات اور بتائی کہ کچھ ایک مرتبہ ہو چکا ہے کہ آکاش اچانک کسی میٹنگ کی بات کہہ کر دو چار دنوں کیلئے جے پور سے باہر چلا جاتا ہے۔


ستیش نے پھر اس بارے میں کچھ لوگوں سے پوچھ گچھ کی تو بھی کچھ نہیں پتہ لگا۔ حالانکہ اس کے آفس کے قریب کے اور اس کے کام سے جڑے کچھ لوگوں نے یہ ضرور کہا کہ ایسا ہوتا تو ہے کہ کچھ دنوں کیلئے اچانک آکاش چھٹی کر لیتا ہے اور آفس نہیں آتا۔ اب وہ میٹنگ میں جاتا ہے یا کچھ اور بات ہے یہ کسی کو پتہ نہیں تھا۔

الجھنیں بڑھتی جا رہی تھیں اور مونا کو محسوس ہونے کگا تھا کہ آکاش پہلے کی طرح نہیں رہا۔ کافی بدل گیا۔ اس بات کو لیکر اکثڑ جھگڑا اور من مٹاؤ بھی ہونے لگا تھا ۔ ستیش کو جب یہ سب پتہ لگا تو اس نے اپنی بیٹی کی مدد کرنے کیلئے آکاش کی پوری تفتیش کرنے کا من بنا لیا اور اسی سلسلے میں ستیش ہمارے پاس آئے۔ ستیش چاہتا تھا کہ ہ، یہ پتہ لگائیں کہ آکاش شراب ہا جوئے کسی غلط سنگت میں آکر کسی غلط دھندے میں تو نہیں پھنس گیا ہے۔

آکا ش  کی سچائی جاننے کیلئے ہم نے اس پر نگرانی رکھنے کی شروعات کی۔ پہلے دن اس کے گھر سے ہی پم نے اس پر نظر رکھی۔ پہلے دن آکاش پر شک کرنے کی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی کیونکہ وہ گھر سے سیدھے آفس گیا اور پھر دن بھر آفس مں ہی رہا۔ شام کوٹھیک ۔ وقت پر گھر واپس آگیا۔اگلے دن آکاش پھر آفس گیا اور تمام دن آفس میں ہی رہا۔

اسی درمیا ن لنچ ٹائم کے آس پاس ستیش نے  ہمیںبتایا کہ آکاش نے مونا کو فون کیا اور کہا ہے کہ وہ کسی میٹنگ کے سلسلے میں  تین دن کیلئے شام کو گڑ گاؤں جا رہا ہے۔ اب شک کی بات یہ تھی کہ اگلے تین دنوں میں ویکینڈ تھا اور ویکینڈ پر آفیشیل میٹنگ ہونا مشکل لگ رہا تھا۔ اب یہاں سے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہونے کی امید ہمیں مل چکی تھی۔

شام کو قریب ساڑھے پانچ بجے آکاش آفس سے نکلا اور وہ اسٹیشن یا ایئر پورٹ جانےکے بجائےاپنی کار سے جے پور میں ہی ادھر ادھر گھومتا رہا۔کبھی سڑک کنارے کار روک کر کسی سے فون پر بات کتا تو کبھی کسی دکان کے اندر جاکر کوئی پیکٹ لیکر واپس آجاتا۔ قریب دو گھنٹے بعد ایک جگہ اس نے کا ر روکی اور دو آدمیوں سے وہ گلے ملا۔ ان دونوںدمیوں کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں تھیں۔ اور دونوں اس کار میں بیٹھے اور کار چل پڑی۔

رات ہوتے ہوتے یعنی 8 بجے کے بعد یہ کار رکی ویشالی نگر کے ایک فلیٹ کے سامنے ۔ آکاش ان دونوں دوستوں کے ساتھ فلیٹ میں داخل ہوا۔ ہم نے آس پاس پوچھ گچھ کی تو پتہ چلا کہ یہ فلیٹ کسی آدمی کے نام تھا اور وہ آکاش کا دوست تھا۔فزیکل سرویلانس کے ساتھ ہماری ایک ٹیم آکاش کا ڈجیٹل سرویلانس بھی کر رہی تھی۔ اس کے ذریعے ہمارے پاس ان کچھ لوگوں کے نمبر اور ڈٹیلس تھیں جن سے آکاش اکثر ٹچ میں رہتا تھا۔

رات دس بجے کے قریب تین اور آدمی اس فلیٹ میں داخل ہوئے اور پھر کوئی اس فلیٹ میں نہ آیا اور نہ گیا۔ ایک فوڈ ڈلیوری والے نے کچھ دیر ویاں ایک آرڈر سپلائی کیا۔ سبھی لوگوں نے اسی فلیٹ میں رات گزاری۔ ہمارے پاس اب کچھ تصویریں تھیں لیکن فلیٹ کے اندر کی کوئی تصویر یا خبر ہمارے پاس نہیں تھہ۔ اگلے دن یہ سبھی لوگ فلیٹ سے نکلے اور تین ۔ چار لوگ ایک کار میں ایک ساتھ گئے۔

آکاش اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ جے پور میں واقع اجمیر روڈ پر بنے ایک کلب پہنچا۔ ہماری ٹیم لمحہ۔ لمحہ کی خب اور نگرانی کر رہی تھی اور ہم ستیش کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے۔ اس کلب میں اینٹری لینا ہمارے لئے بھی مشکل نہیں تھا اس لئے اب سب کچھ صاف نظر آنے والا تھا۔ اس کلب میں شراب ، سگریٹ اور کباب کے ساتھ ہی شباب کا انتظام تھا۔ ویٹروں اور ہوٹل کے اسٹاف سی معلوم چل گیا تھ اکہ کچھ لوگ یہاں پرسنل لیول پر کال گرلس اور بار ڈانسر کو بلواتے ہیں۔

کچھ ہی دیر بعد آکاش نشے میں بار ڈانسروں کے ساتھ جھومنے لگا۔ کچھ نشہ اور کچھ کھانے کے بعد آکاش اور اس کے دوست اس کلب کے ایک پرسنل اسپیس میں کال گرلس کے ساتھ تھے۔ ویکینڈ مستی کہیں یا پارٹی یا عیاشی، جو بھی تھا پورے زوروں پر جاری تھا اور آکاش کی یہ پوری راس لیلا دیکھنے کیلئے ستیش وہاں پہنچ چکا تھا۔، ستیش نے ہماری ٹیم کے ساتھ چھپ کر آکاش کا یہ دوسرا روپ اپنی آنکھوں سے لائیو دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔

LSD URDU
First published: Aug 04, 2018 04:09 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading