உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ، ملک کے دیگر حصوں میں آئی کمی

    گزشتہ روز سامنے آئی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں دہشت گردانہ حملوں میں کمی آئی ہے لیکن جموں و کشمیر میں اضافہ ہوا ہے۔

    گزشتہ روز سامنے آئی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں دہشت گردانہ حملوں میں کمی آئی ہے لیکن جموں و کشمیر میں اضافہ ہوا ہے۔

    گزشتہ روز سامنے آئی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں دہشت گردانہ حملوں میں کمی آئی ہے لیکن جموں و کشمیر میں اضافہ ہوا ہے۔

    • Share this:
      گزشتہ روز سامنے آئی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں دہشت گردانہ حملوں میں کمی آئی ہے لیکن جموں و کشمیر میں اضافہ ہوا ہے۔ وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق جہاں 2014 میں 3 دہشت گردانہ حملے ہوئے، وہیں 2018 میں صرف ایک دہشت گردانہ حملہ ہوا۔ وہیں 2015-16  میں ایک- ایک دہشت گردانہ حملے ہوئے، تاہم 2017 میں کوئی دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا۔ ان تمام دہشت گردانہ حملوں میں کل 11 شہریوں کی موت ہوئی۔ جن میں 11 سکیورٹی فورس کے جوان شہید ہوئے اور 7 دہشت گردوں کو مار گرایا گیا۔

      وہیں دوسری جانب نکسل متاثرہ ریاستوں کی بات کریں تو گزشتہ 5 سالوں میں تشدد میں کمی آئی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں کل 4,969  نکسلی حملے ہوئے۔ 2014  میں 1091  نکسلی حملے اور 2018 میں 833 نکسلی حملے ہوئے۔ 2015 میں 1089, 2016 میں  1048 اور 2017 میں  908 نکسلی حملے ہوئے۔

      گزشتہ 5 سالوں میں جہاں نکسلی حملوں میں مارے گئے شہریوں کی تعداد میں کمی آئی ہے، وہیں نکسلیوں کے خلاف چلائے گئے آپریشن کے سبب ہر سال زیادہ نکسلی مارے گئے۔ 2014 میں  63 نکسلی مارے گئے، تاہم 2018 میں 225 نکسلی مارے گئے۔

      جموں و کشمیر میں 5 سالوں میں 1708 دہشت گردانہ حملے ہوئے
      وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق، جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ 2014 میں 222 دہشت گردانہ حملے ہوئے، تو 2018 میں 614 دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں۔ 2015میں 208, 2016 میں 322, 2017 میں  342 دہشت گردانہ حملے ہوئےہیں۔ گزشتہ 5 سالوں میں کل 828 دہشت گرد مارے گئے، تاہم 339 سکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے۔ وہیں کل 138 شہریوں کی جان ان دہشت گردانہ حملوں میں گئی۔

       
      First published: