ہوم » نیوز » معیشت

RIL Q1 Result: پہلی سہ ماہی میں 13,248 کروڑ روپئے کا منافع، نیٹ پرافٹ میں 31 فیصد اضافہ

جمعرات کو ریلائنس انڈسٹریز (Reliance Industries) نے جاری مالی سال کے پہلی سہ ماہی (RIL Q1 Resulsts) کے نتیجے جاری کردیئے ہیں۔ اپریل - جون سہ ماہی میں RIL کا ریوینیو 88,253 کروڑ روپئے رہا ہے۔ مستحکم منافع سال بہ سال کی بنیاد پر 31 فیصدی بڑھا ہے۔

  • Share this:
RIL Q1 Result: پہلی سہ ماہی میں 13,248 کروڑ روپئے کا منافع، نیٹ پرافٹ میں 31 فیصد اضافہ
RIL Q1 Result: پہلی سہ ماہی میں 13,248 کروڑ روپئے کا منافع، نیٹ پرافٹ میں 31 فیصد اضافہ

ممبئی: مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز (Reliance Industries Limited) نے جاری مالی سال کے پہلے سہ ماہی کے نتیجے (RIL Q1 Results) جاری کردیئے ہیں۔ پہلی سہ ماہی میں ریلائنس کا کل ریوینیو 88,253 کروڑ روپئے رہا۔ سال بہ سال کے مقابلے میں یہ 1,56,976 کروڑ روپئے رہا تھا۔ کووڈ-19 کے اثر کے بعد ریلائنس جیو، ریٹیل اور آئیل ٹو کیمیکل (O2C) بزنس کا رزلٹ انلسٹس کی امید سے بہتر رہا ہے۔ حالانکہ آئل ٹو کیمیکل بزنس پر مانگ کم ہونے کی وجہ سے اثر پڑا ہے۔ RIL کی گراس ریفائننگ مارجن $6.3/bbl رہی۔ پہلی سہ ماہی میں ریلائنس انڈسٹریز مستحکم منافع 13,248 کروڑ روپئے رہی۔ گزشتہ مالی سال کے معمول کی مدت میں یہ 10,104 کروڑ روپئے رہا تھا۔ اس طرح اس میں 31 فیصدی کا اضافہ ہوا ہے۔ اپریل - جون سہ ماہی میں ریلائنس جیو کا خالص منافع 2,520 کروڑ روپئے رہا۔


جمعرات کو ریلائنس انڈسٹریز (Reliance Industries) نےجاری مالی سال کے پہلی سہ ماہی (RIL Q1 Resulsts) کے نتیجے جاری کردیئے ہیں۔ اپریل - جون سہ ماہی میں RIL کا ریوینیو 88,253 کروڑ روپئے رہا ہے۔ مستحکم منافع سال بہ سال کی بنیاد پر 31 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ پہلی سہ ماہی میں آپریشن سے آنے والا کنسالیٹیڈ انکم 91,238 کروڑ روپئے رہا۔ گزشتہ سال کے معمول کی مدت میں یہ 1,62,353 کروڑ روپئے رہا تھا۔


ریلائنس انڈسٹریز کی کارکردگی پر چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر مکیش امبانی (Mukesh Amabni) نے کہا، ’عالمی سطح پر لاک ڈاون کی وجہ سے مطالبات میں بھاری کمی آئی، جس سے ہائیڈرو کاربن بزنس پر اثر پڑا، لیکن آپریشنز میں لچیلے پن کی وجہ سے ہم نے معمول کے قریب کارکردگی کی ہے، جوکہ انڈسٹری میں سب سے بہتر ہے۔’
ریلائنس انڈسٹریز کی کارکردگی پر چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر مکیش امبانی (Mukesh Amabni) نے کہا، ’عالمی سطح پر لاک ڈاون کی وجہ سے مطالبات میں بھاری کمی آئی، جس سے ہائیڈرو کاربن بزنس پر اثر پڑا، لیکن آپریشنز میں لچیلے پن کی وجہ سے ہم نے معمول کے قریب کارکردگی کی ہے، جوکہ انڈسٹری میں سب سے بہتر ہے۔’


ریلائنس انڈسٹریز کی کارکردگی پرچیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر مکیش امبانی (Mukesh Amabni) نے کہا، ’عالمی سطح پر لاک ڈاون کی وجہ سے مطالبات میں بھاری کمی آئی، جس سے ہائیڈرو کاربن بزنس پر اثر پڑا، لیکن آپریشنز میں لچیلے پن کی وجہ سے ہم نے معمول کے قریب کارکردگی کی ہے، جوکہ انڈسٹری میں سب سے بہتر ہے۔’ ریلائنس انڈسٹریز کی کنسالیٹیڈ آپریٹنگ پرافٹ (EBITDA) اس بار 21,585 کروڑ روپئے رہا۔ کیش پرافٹ کی بات کریں تو سال بہ سال کی بنیاد پر اس میں 17 فیصدی کا اضافہ ہوا اور یہ 18,893 کروڑ روپئے رہا۔ لاک ڈاون کے دوران کمپنی کی ریفائننگ اور پیٹروکیمیکل بزنس (RIL Refining and Petrolchem business) اپنی صلاحیت کے 90 فیصدی تک کام کرتی رہی۔ انڈسٹریز اوسط کے مقابلے میں یہ تین گنا تھا۔ کمپنی نے اس صلاحیت کو فیڈ اسٹاک آپٹیمائزیشن اور ہائی ایکسپورٹ کی بنیاد پرکیا۔ اس سہ ماہی کے دوران کمپنی کا کل ایکسپورٹ 32,681 کا رہا۔

اپریل - جون سہ ماہی کے لئے اسٹینڈالون ریوینیو 52,263 کروڑ روپئے اور EBITDA اس بار 11,339 کروڑ روپئے رہا۔ ایکسپشنل آئٹم کے ساتھ نیٹ پرافٹ 9,753 کروڑ روپئے رہا۔ گزشتہ سال کے معمول کی مدت کے مقابلے میں اس میں 8 فیصدی کا اضافہ ہوا ہے جبکہ، کیش پرافٹ 10,350 کروڑ روپئے رہا۔ لاک ڈاون کے دوران 50 فیصد اسٹورس پوری طرح سے بند ہونے کے بعد بھی کمپنی کے ریٹیل بزنس کی کارکردگی بہتر رہی۔ ریلائنس ریٹیل کا ریوینیو 31,633 کروڑ روپئے اور EBITDA  سہ ماہی میں 1,083 کروڑ روپئے کا رہا۔ اپریل - جون سہ ماہی میں گروسری اور کنیکٹیوٹی بزنس میں 21 فیصدی کا اضافہ ہوا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 30, 2020 09:14 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading